Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 100

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ان نقصانات سے واقف ہوں جو صدر ایوب صاحب کی آمریت سے پاکستان کے لوگوں کو دینی، اخلاقی اور مادی حیثیت سے پہنتے ہیں۔ اور مجھے یہ بھی اندازہ ہے کہ اگر یہ آمریت آئندہ کے لئے مستحکم ہو گئی تو مزید کیا نقصانات پہنچیں گے۔ ایسی حالت میں میرے لئے خدا کے حضور یہ ذمہ داری اپنے سر لینا ممکن نہیں کہ میرے کسی فعل کی وجہ سے یہ آمریت ملک پر از سر نو مسلط ہو۔ مجھے یقین ہے کہ اگر اس انتخاب میں فاطمہ جناح کی تائید نہ کی گئی تو یہ آمریت پھر مسلط ہو جائے گی۔ اس کا مسلط ہونا میرے نزدیک ایک عورت کو سربراہ بنانے کی بہ نسبت کم از کم دس گنا زیادہ بڑا گناہ ہے: ا۔ حدیث میں ہے کہ جو قوم عورت کو حکمران بنائے وہ ہرگز فلاح نہ نہیں پائے گی۔ مگر مولانا مودودی کے نزدیک پاکستان کی فلاح کی صورت یہ تھی کہ ایک عورت کو اس کا حکمراں بنایا جائے۔ ایسی حالت میں مولانا مودودی کے احساس ذمہ داری کا ماخذ اور جو کچھ بھی ہو، مگر اس کا ماخذ اسلام نہیں ہو سکتا۔ ۲۔ واقعات بتاتے ہیں کہ مولانا مودودی کا اندازہ سیاسی اعتبار سے آخری حد تک غلط تھا۔ ۱۹۶۵ کے الیکشن میں ساری مخالفانہ کوشش کے باوجود ایوب خاں دوبارہ برسر اقتدار آگئے۔ ان کے بعد بھی مسلسل کوئی نہ کوئی آمر پاکستان پر مسلط ہوتا رہا ــــــــ ایوب خاں، یحییٰ خاں، بھٹو، جنرل ضیاء الحق۔ مولانا مودودی کا مذکورہ خطا اسلامی نقطۂ سے بھی غلط تھا اور سیاسی اندازہ کے لحاظ سے بھی غلط۔ یہ خطا ان کے عالم ہونے کی حیثیت کو بھی مجروح کر رہا ہے اور ان کے مفکر ہونے کی حیثیت کو بھی۔ ۴ جون ۱۹۸۹ حدیث کی کتابوں میں دو علاج کے بارہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ یہ روایتیں عام طور پر باعتبار سند زیادہ قوی نہیں ہیں۔ ممکن ہے کہ عرب کے اقوال ان میں شامل ہو گئے ہوں۔ تاہم ان میں بڑی حکمت کی باتیں ہیں۔ مثلاً ایک روایت میں ہے کہ : المعدۃ بیت الدواء (معدہ بیماریوں کا گھر ہے)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page