Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

نیو یارک سے جناب کلیم الدین صاحب کا ٹیلی فون آیا۔ وہ حیدر آباد کے رہنے والے ہیں اور معاش کے سلسلے میں امریکہ گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ امریکہ میں مسلمانوں کے مختلف حلقوں میں گیا اور ان کے بہت سے اجتماعات میں شرکت کی۔ ہر جگہ قومی اسلام کا تذکرہ تھا۔ ایسا معلوم ہوا کہ لوگ اس دعوتی اسلام سے واقف ہی نہیں جس کا آپ الرسالہ میں مسلسل تذکرہ کر رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں یہی تمام مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ قومی مسائل میں مشغول ہیں اور اس کو دعوت کا نام دئے ہوئے ہیں۔ اس قسم کی سرگرمیاں مسلمانوں کی سرکشی کے خانہ میں تو لکھی جاسکتی ہیں مگر وہ تعمیل اسلام کے خانہ میں نہیں لکھی جاسکتیں۔ ۷ جون ۱۹۸۹ الشیخ الغزالی نے بعض روایات کو صحت سند کے باوجود قبول نہیں کیا۔ کیوں کہ وہ بداہتہً عقل کے خلاف ہیں۔ اس پر بعض سعودی پر چوں میں سخت تنقید کی جارہی ہے۔ الدعوة ، ۲ شوال ۱۴۰۹ ھ (یکم جون ۱۹۸۹) میں ایک عرب مضمون نگار لکھتے ہیں کہ شیخ غزالی اپنے عقلی منہج کی وجہ سے ضعیف حدیثوں کو قبول کرلیتے ہیں۔ اور صحیح حدیثوں کو رد کر دیتے ہیں۔ جن صحیح حدیثوں کو انھوں نے رد کیا ہے، ان میں سے ایک بخاری کی یہ روایت ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے موت کے فرشتہ کی آنکھ پر طمانچہ مارا (فیقبل احادیث ضعیفة ويرد احادیث صحيحة ۔ فمن الاحادیث التي ردها وهي صحيحة الحديث الذى فيه أن موسى عليه السلام لطم عين ملك الموت ، صفحه ۲۳ ) آگے مضمون نگار لکھتے ہیں کہ شیخ غزالی نے جو منہج اختیار کیا ہے یہ وہی منہج ہے جس کو قدیم متکلمین نے اختیار کیا تھا۔ ان کا قول تھا کہ جب نقل عقل کے خلاف ہو تو عقل کو لیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ نقل کی وکالت ظنی ہے اور عقل کی وکالت قطعی روهذا المنهج الذي اتبعہ الشيخ ومن ۵۴ المتکلمین في ماسبق، وفي الوالذان ان النفتا، العقار مهم ، تنقاير

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page