آغازِ کلام
Urdu book, p. 103
By Maulana Wahiduddin Khan
کا استعمال بلا شبہ درست نہیں ۔ مگر دینی امور میں عقل شرعی کا استعمال عین درست ہے ۔ مذکورہ بالا حدیث میں عقل شرعی کا استعمال یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ دین میں پیغمبر اور فرشتہ کا جو تصور دیا گیا ہے ۔ اس سے مذکورہ واقعہ مطابقت نہیں رکھتا ۔ اس قسم کے نقطہ نظر کو عقل پرستی کہنا ہر گز درست نہیں ۔ 8 جون ۱۹۸۹ء حدیث کی کتابوں میں ایسی بہت سی روایتیں آئی ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں یہ بات پسندیدہ ہے کہ کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو نکاح سے پہلے اسے دیکھ لے۔ ایک روایت کے مطابق ، حضرت مغیرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کے لئے نکاح کا پیغام بھیجا ۔ آپ نے پوچھا کہ کیا تم نے اسے دیکھا ہے۔ میں نے کہا کہ نہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ اس کو دیکھ لو ۔ اس طرح زیادہ امید ہے کہ دونوں کا تعلق دائمی طور پر برقرار رہے ۔ عن المغيرة بن شعبة قال خطبت امرأةً على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال النبي صلى الله عليه وسلم انظرت اليها ۔ قلتُ لا ۔ قال فانظر اليها ۔ فانه اجدر ان يؤدم بينكما (نسائی ، ابن ماجه ، الترمذی) 9 جون ۱۹۸۹ء اسلام میں اتفاق و اتحاد پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ ایک حدیث کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگ اس وقت تک خیر پر رہیں گے جب تک وہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے (الناس بخير ما تعاونوا) دو یا زیادہ آدمیوں کے درمیان باہمی تعاون کا ظہور میں آنا کوئی سادہ سی بات نہیں ، یہ بہت بڑا واقعہ ہے۔ باہمی تعاون اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنی ذات کو پیچھے کرنے اور اصول کو آگے کرنے کے لئے تیار ہو۔ جب وہ مقصد کے مقابلہ میں ہر دوسری چیز کو ثانوی حیثیت دینے پر راضی ہو۔ جب وہ اس اعلیٰ حوصلگی کا ثبوت دے کہ وہ تعاون کے خلاف حالات ہونے کے باوجود تعاون کرے گا۔ اس کے مفادات اور اس کی ذاتی مصلحتیں مجروح ہو رہی ہوں تب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader