آغازِ کلام
Urdu book, p. 104
By Maulana Wahiduddin Khan
کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کی۔ آج میں ان کو اپنے سایہ کے نیچے جگہ دوں گا جب کہ میرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں۔ (این المتحابون بجلالي۔ اليوم أظلهم بظلي يوم لا ظلّ إلا ظلّی)۔ ۱۰ جون ۱۹۸۹ء چودھری رحمت علی (۱۹۵۱-۱۸۹۲) نظریہ پاکستان کے پہلے خالق تھے۔ وہ مشرقی پنجاب کے ضلع ہوشیار پور میں پیدا ہوئے اور لندن میں تعلیم پائی۔ ۱۹۲۰ء میں انھوں نے ایک پمفلٹ شائع کیا جس کا نام تھا: The Millat of Islam and the menace of Indianism. اس میں انھوں نے پہلی بار پاکستان کا نظریہ پیش کیا۔ ان کا خیالی پاکستان حسب ذیل علاقوں پر مشتمل تھا اور انھیں کے چند حروف کو لے کر اس کا نام بنایا گیا تھا: پنجاب افغانستان کشمیر سندھ بلوچستان پاکستان۔ یہی نظریہ اقبال نے ۱۹۳۰ء میں پیش کیا۔ دونوں کا بنیادی نظریہ ایک تھا۔ صرف جغرافی حدود کا فرق تھا۔ سید شریف الدین پیرزادہ لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ ڈاکٹر اقبال نے چودھری رحمت علی کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا جس میں انھوں نے پاکستان نیشنل موومنٹ میں اپنی بھی شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ چودھری رحمت علی نے ڈاکٹر صاحب کے عزائم کا خیر مقدم کرتے ہوئے جوابا لکھا کہ وہ انھیں پاکستان نیشنل موومنٹ کے صدر کی حیثیت سے بسروچشم قبول کرتے ہیں، بشرطیکہ ڈاکٹر اقبال اپنا سر کا خطاب واپس کر دیں۔ لیکن اس سے پہلے کہ ڈاکٹر اقبال اس تحریک کی صدارت قبول کریں، ان کا انتقال ہو گیا۔ (صفحہ ۴۱۸) ہفتہ روزہ انقلاب (راولپنڈی، پاکستان) نے اپنے شمارہ ۲۱ مئی ۱۹۸۹ء میں لکھا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader