Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 105

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ مسلمانوں برصغیر نے اپنے عظیم رہنماؤں کی رہبری میں جدوجہد کرکے ایک آزاد اور خودمختار وطن حاصل کرلیا جو پاکستان کہلایا۔ اب چودھری رحمت علی نے اپنی منزل کو پالیا تھا۔ ان کی تجویز نے بھی عملی صورت اختیار کرلی تھی۔ ۱۹۳۳ میں وہ اس نورزائییدہ مملکت، اپنی آرزوؤں اور امیدوں کے مرکز پاکستان میں تشریف لائے۔ قومی رہنماؤں سے ملے اور ایک دو جلسوں کو خطاب کیا۔ مگر جلد ہی دل برداشتہ ہوکر لندن واپس چلے گئے۔ کاغذی پاکستان بنانا کتنا آسان ہے، اور حقیقی پاکستان بنانا کتنا مشکل۔ ۱۱ جون ۱۹۸۹ ابن الجوزی (۵۰۸ھ ۔ ۵۹۷ھ) مشہور علماء اسلام میں سے ہیں۔ ان کی ایک کتاب صید الخاطر کے نام سے ۱۲۸۰ میں چھپی ہے۔ اس کو ناجی طنطاوی نے ایڈٹ کیا ہے۔ اس کتاب میں بہت سی اصلاحی باتیں درج ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے ممنوع چیزوں کے بارے میں لوگوں کے حرص پر غور کیا تو میں نے دیکھا کہ جتنا زیادہ منع کیا جائے، اتنا ہی لوگوں کی رغبت اس کی طرف بڑھتی ہے۔ مثل ہے کہ آدمی اس چیز کا حریص ہے جس سے اس کو منع کیا جائے ( المرء حریص علی ما منع ) ایک عرب شاعر نے کہا ہے کہ مجھے ایک چیز سے روکا گیا تو اس کی طرف میری خواہش بڑھ گئی۔ انسان کے لئے سب سے زیادہ محبوب چیز وہ ہے جس سے اسے روکا جائے: منعت شیئاً فكثرت الولوع به احب شئ الى الانسان ما منعا ۱۲ جون ۱۹۸۹ موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اتحاد کی باتیں کرتے ہیں۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلمان سب سے زیادہ اختلاف کی حالت میں مبتلا ہیں۔ اس کے سبب پر غور کرتے ہوئے میری زبان سے نکلا : مسلمان اتحاد یوں کے ساتھ متحد ہوکر رہنا چاہتے ہیں۔ حالاں کہ اختلافیوں کے ساتھ متحد ہوکر رہنے کا نام اتحاد ہے۔ اتحاد کی یہی وہ اہم ترین حقیقت ہے جس سے ہمارے اصاغر بھی نا آشنا ہیں اور ہمارے اکابر بھی نا آشنا۔ اتحاد کا راز ہے، اختلاف کو برداشت کرنا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page