Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

صوفیاء کے یہاں چلہ کشی کا بہت رواج ہے۔ یعنی ۴۰ دن تک عبادت و ریاضت کرنا۔ اس سلسلہ میں ایک حدیث بھی پیش کی جاتی ہے جو الفاظ کے معمولی فرق کے ساتھ کتابوں میں آئی ہے۔ ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں : من اخلاص لله اربعين يوما ظهرت جس شخص نے اللہ کے لئے چالیس دن تک اخلاص ينابيع الحكمة على لسانه اختیار کیا، اس کی زبان پر حکمت کی باتیں جاری ہو جاتی ہیں۔ دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ جس شخص نے چالیس دن تک دنیا سے بے رغبتی اختیار کی اور اس میں مخلصانہ عبادت کی تو اللہ اس کی زبان پر حکمت کے چشمے اس کے دل سے جاری کر دیتا ہے (من زهد في الدنيا اربعين يوما وأخلص فيها العبادة أجرى الله على لسانه ينابيع الحكمة من قلبه) جلال الدین سیوطی اور اس طرح کے کچھ لوگوں نے اس روایت کو قبول کیا ہے۔ مگر بہت سے علما نے اس کو ضعیف اور موضوع قرار دیا ہے۔ مثلاً سخاوی ، ذہبی ، ابن جوزی وغیرہ۔ موجودہ زمانہ میں ناصر الدین البانی بھی اس کو موضوع کہتے ہیں۔ تاہم مفہوم کے اعتبار سے اس روایت میں کوئی حقیقی نقص نہیں۔ اس میں ۴۰ دن کا لفظ اعتباری ہے۔ یعنی ۴۰ دن سے مراد لمبی مدت ہے نہ کہ حسابی معنوں میں ۴۰ دن۔ بجائے خود یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص لمبی مدت تک کسی خاص عمل میں گزارے تو اس عمل کے رموز اس پر کھل جاتے ہیں۔ اس کو اس عمل کی معرفت حاصل ہو جاتی ہے۔ ۱۴ جون ۱۹۸۹ء ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ اقبال کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق تھا۔ وہ عاشق رسول تھے۔ میں نے کہا کہ رسول اللہ کے لئے عشق کا لفظ بولنا ایک بدعت ہے کیونکہ شریعت میں اس کے لئے محبت کا لفظ آیا ہے نہ کہ عشق کا۔ دوسری بات یہ ہے کہ رسول سے محبت کا یا عشق کا مطلب وہ نہیں ہے جو ایک عورت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page