Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

اور ایک مرد کو آپس میں ہوتا ہے۔ اس سے مراد والدانہ اتباع ہے نہ کہ عام معنوں میں ذاتی نوعیت کا عشق۔ اقبال اگر رسول اللہ کے عاشق تھے تو انہیں آپ کا اتباع کرنا چاہئے تھا۔ رسول اللہ کا یہ حال تھا کہ انہوں نے دور شاعری میں بھی شاعری نہیں کی، بلکہ نثر میں کلام کیا۔ اس کے برعکس اقبال دورِ سائنس میں شاعری کرتے رہے۔ کیا اسی کو عشقِ رسول کہا جائے گا۔ ۱۵ جون ۱۹۸۹ اسلام آباد (پاکستان) سے انگریزی ویکلی مسلم ورلڈ (The Muslim World) نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۳ جون ۱۹۸۹ میں نوبیل انعام یافتہ ڈاکٹر عبدالسلام کے انٹرویو کے کچھ اقتباسات شائع ہوئے ہیں۔ یہ انٹرویو انہوں نے اخبار نیشن (The Nation) کو دیا تھا۔ ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ ہم سائنسی ذہن رکھنے والی قوم نہیں۔ انہوں نے پاکستان واپسی کے لئے اپنی گہری دل چسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کی خاطر وہ کسی بھی چیز کو چھوڑ سکتے ہیں حتیٰ کہ ٹرمی الیسٹ میں اپنے ممتاز عہدہ کو بھی، اگر پاکستانی حکومت ایک سائنسی ادارہ قائم کرے اور اس کے لئے ان کی خدمات حاصل کرے: We are not a science-minded people. Although we might have done very well in the higher reaches, we are neither here nor there. Dr. Salam expressed his keenness to return to Pakistan. He said that he would give up antying-even his prestigious position at Trieste- if the Pakistan government sets up a Science Institute and asked for his services. مگر عملاً کبھی ایسا نہیں ہوگا۔ کیوں کہ پاکستان کی جو حکومت بھی ڈاکٹر عبدالسلام کو اس طرح بلائے گی، اس کو موقع پرست لیڈر وشوشہ بنالیں گے اور حکومت پر قادیریان نوازی کا الزام عائد کردیں گے۔ اس طرح وہ عوام کو بھڑکا کر اس حکومت کے لئے اگلے الیکشن میں جیتنے کا امکان ختم کردیں گے۔ یہی جھوٹی اسلامی سیاست ہے جس نے نصف صدی کے باوجود پاکستان کو بربادی کے سوا کسی اور منزل تک نہیں پہنچایا۔ مکہ سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے جس کا نام الرابطہ ہے۔ اس کے شمارہ ذوالقعدہ ۱۴۰۹ھ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page