Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 108

By Maulana Wahiduddin Khan

میں مدینہ کی مسجد نبوی کے امام الشیخ علی عبد الرحمن الحذیفی کا ایک خطبہ نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے وہاں کی مسجد نبوی میں دیا تھا۔ انھوں نے کہا : يا امة الاسلام ، لماذا الاختلاف والدين واحد . الى متى الشقاق والامة واحدة . الى متى التفرقة وانتم تدركون ما فيها من الضرر (صفحه ۷) اے امتِ اسلام! باہمی اختلاف کیوں جب کہ دین ایک ہے۔ باہمی جھگڑے کب تک جب کہ امت ایک ہے۔ باہمی تفریق کب تک حالانکہ تم جانتے ہو کہ اس میں کتنا زیادہ نقصان اور بگاڑ ہے۔ مسلمانوں کے اندر اتحاد و اتفاق کے لئے اس قسم کی جذباتی اپیلیں سو سال سے بھی زیادہ عرصہ سے کی جا رہی ہیں۔ مگر عملی صورتحال آج اس سے بھی زیادہ خراب ہے جتنا کہ سو سال یا پچاس سال پہلے تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر آدمی یہ فرض کر کے بول رہا ہے کہ "امتِ اسلام" واقعہ میں موجود ہے۔ جب کہ خود امتِ اسلام سرے سے موجود نہیں۔ مسلمانوں کی موجودہ بھیڑ کو امتِ اسلام سمجھنا ایسا ہی ہے جیسے کسی قدیم شہر کے کھنڈروں کو دیکھ کر سمجھنا کہ خود وہ شہر زندہ حالت میں موجود ہے۔ آج سب سے پہلا کام یہ ہے کہ دوبارہ "امتِ اسلام" وجود میں لائی جائے۔ اس کے بعد ہی اگلے مرحلہ کا کوئی کام کیا جا سکتا ہے۔ ۱۷ جون ۱۹۸۹ء ہمارے یہاں پاکستان کے تین اخبارات آتے ہیں۔ دو اردو اخبار (وفاق اور نوائے وقت) اور ایک انگریزی اخبار (فرنٹیئر پوسٹ)۔ نوائے وقت کے ہر شمارہ میں مسٹر جناح اور ڈاکٹر اقبال کا کوئی قول نقل کیا جاتا ہے۔ اس کے شمارہ ۱۲ جون ۱۹۸۹ء میں مسٹر محمد علی جناح کا ایک قول نقل کیا گیا ہے جو انھوں نے ۱۰ مارچ ۱۹۴۱ کو مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا: "مسلم اقلیت کے صوبوں میں رہنے والے مسلمان خود دار اور بلند حوصلہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ مسلم اکثریت کے صوبوں میں رہنے والے بھائیوں کی نجات اور آزادی کی خاطر وہ ہر قسم کے ایثار اور قربانی کے لئے تیار ہیں۔" ۱۹۴۷ میں ملک کی تقسیم کے بعد "بھارت" کے مسلمان جن حالات سے دوچار ہوئے ، وہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page