Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 109

By Maulana Wahiduddin Khan

مسٹر جناح کے مذکورہ قول کے عین مطابق تھے۔ مگر جب یہ متوقع حالات عملاً پیش آئے تو بھارتی مسلمان ان کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ وہ صبر کے بجائے فریاد اور احتجاج کرنے لگے ۔ ایثار و قربانی کی بات کرنا کتنا زیادہ آسان ہے ، اور ایثار و قربانی کا عملی ثبوت دینا کتنا زیادہ مشکل ۔ ۱۸ جون ۱۹۸۹ انگریزی جرنلسٹ مسٹر ارن شز سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے جیسے لوگ لامذہب صرف اس لئے ہیں کہ ہم مذہب کو نہیں سمجھتے : We are non-believer because we don't understand religion. یہی اکثر ان لوگوں کا حال ہے جو بے دین یا لامذہب کہے جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی مذہب سے دوری حقیقتاً انکار کی بنا پر نہیں ، بلکہ بے خبری کی بنا پر ہے۔ ان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے طرز فکر اور ان کے ذہنی معیار پر انہیں مذہب نہ دیا جا سکا۔ اس لئے مذہب ان کے دماغ میں جگہ نہیں بنا سکا۔ اگر مذہب کو ان کے ذہنی معیار پر مدلل کر کے پیش کیا جائے تو ان میں سے بہت سے لوگ انکار مذہب کو چھوڑ کر اقرار مذہب کو اپنا طریقہ بنا لیں گے۔ ۱۹ جون ۱۹۸۹ ٹائمز آف انڈیا (۱۹ جون ۱۹۸۹) کے صفحہ آخر پر سلمان رشدی کا ایک انٹرویو چھپا ہے جو ۵۲ سالہ امینہ میر نے اس سے لندن کے کسی مکان میں لیا تھا۔ ہندوستان پہلا ملک ہے جس نے رشدی کی کتاب (سینگ ورسز) پر پابندی لگائی تھی۔ اس کا مذاق اڑاتے ہوئے سلمان رشدی نے کہا کہ امریکی فلم لاسٹ ٹیمپٹیشن آف کرائسٹ پر کسی بھی عیسائی ملک میں پابندی نہیں لگائی گئی۔ مگر ہندوستان میں اس پر پابندی لگا دی گئی۔ یہ کیا منافق ہے ؟ Look at the "Last Temptation of Christ" (an American film), not banned in any Christian country but banned in India. That's laughable. میں مذکورہ کتاب اور فلم دونوں کو سخت بیہودہ اور لغو سمجھتا ہوں۔ مگر پابندی کا مطالبہ کرنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page