Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ ہوئی ۔ یہاں تک کہ انھوں نے پر جوش طور پر کہا : I want to shake this hall مگر ہال کا ہل جانا تو درکنار وہ گونگا بھی نہیں۔ مذکورہ مقرر اپنے لہجہ اور شکل وصورت کے اعتبار سے کوئی ہندوستانی یا پاکستانی معلوم ہوتے تھے۔ امریکہ، ہندوستان یا پاکستان سے بالکل مختلف ہے۔ یہاں سائنٹفک انداز میں بات کہنے کی قیمت ہے نہ کہ پر جوش طور پر نعرہ لگانے کی۔ مگر ہندوستان اور پاکستان کے مسلمان امریکہ میں بھی اپنا ایک الگ جزیرہ بنانا چاہتے ہیں۔ ۱۰ جنوری ۱۹۸۹ آج خواب میں دیکھا کہ میں کچھ لوگوں کے سامنے ایک حدیث کی تشریح کر رہا ہوں۔ وہ حدیث مشکوٰة (کتاب الرقاق) میں ہے اور اس کے الفاظ یہ ہیں : عن ابن مسعود ان النبي صلى الله وسلم نام على حصير فقام وقد أثر في جسمه فقال ابن مسعود: یا رسول الله، لو أمرتنا أن نبسط لك ونعمل فقال: مالی وللدنيا۔ وما أنا والدنيا إلا كراكب استظل تحت شجرة ثم راح وتركها (صفحه ۱۳۳۳) خواب میں میں نے کہا کہ اینٹ پتھر کے محل صرف سطحی لوگوں کو مطمئن کرتے ہیں۔ فکری انسان صرف فکری محل میں جی سکتا ہے۔ اینٹ پتھر کے محل میں جینا ایک فکری انسان کے لئے ممکن نہیں۔ اور یہ فکری انسان اگر ربانی انسان ہو تو اس کے بعد اس کا معاملہ بے حساب حد تک بڑھ جائیگا۔ ۱۱ جنوری ۱۹۸۹ ایک بزرگ کا قول ہے : الحق لا يعرف بالرجال (حق کو آدمیوں سے نہیں پہچانا جاتا) موجودہ زمانہ کے جس مسلمان سے کہئے، وہ پر جوش طور پر اس کی تائید کرے گا۔ مگر میرا تجربہ ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں ایسے لوگ نایاب ہیں جو فی الواقع اس اصول کو مانتے ہوں۔ اس کا زندہ ثبوت میں خود ہوں۔ میرے جتنے بھی مخالفین ہیں وہ سب کے سب صرف ایک وجہ سے میرے مخالف ہیں۔ یہ کہ میں نے ان کے اکابر پر تنقید کیوں کی۔ میں اپنی ہر تنقید کے ساتھ قرآن و حدیث کے دلائل پیش کرتا ہوں۔ آج تک کسی نے میرے دلائل کا تجزیہ کرکے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page