آغازِ کلام
Urdu book, p. 110
By Maulana Wahiduddin Khan
اور پابندی لگانا موجودہ زمانہ میں سراسر بے فائدہ ہے۔ کیوں کہ اس کے بعد اس کی اشاعت اور بڑھ جاتی ہے۔ رشدی کی کتاب ابتدائی چند مہینوں میں صرف چند ہزار فروخت ہوئی مگر فروری ۱۹۸۹ میں خمینی کے فرمان قتل کے بعد اس کے خلاف جو شور و غل ہوا اس کے بعد اس کی مانگ بے حد بڑھ گئی چنانچہ فروری سے مئی ۱۹۸۹ تک اس کے ایک ملین نسخے فروخت ہو چکے تھے اور نصف درجن زبانوں میں اس کے ترجمے زیر اشاعت تھے۔ جنرل محمد ضیاء الحق نے پاکستان میں ہندوستانی فلموں کی نمائش کو ممنوع قرار دیا۔ اس کے بعد یہ ہوا کہ ہندوستانی فلموں کے ویڈیوریکیسٹ باہر ملکوں میں جاکر پاکستان پہنچنے لگے اور گھر گھر میں وہی آکر پھر ہندوستانی فلمیں دیکھی جانے لگیں۔ ۲۰ جون ۱۹۸۹ مغل شہنشاہ اکبر نے دین الہی ایجاد کیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے راجہ مان سنگھ کو اس دین میں شرکت کی دعوت دی۔ ملا بدایونی کی روایت کے مطابق، راجہ مان سنگھ نے کہا کہ میں ایک ہندو ہوں، اگر آپ کہیں تو میں مسلمان ہو جاؤں۔ مگر یہ دوسرا (دین الہی) کا راستہ مجھے خود نہیں معلوم کہ کیا ہے سخن در دہن دارید، ہندو خود ہستم۔ واگر بفرمائید مسلمان میشوم۔ و راہ دیگر خود نمیدانم کہ کدام است) اسلام تاریخی اعتبار سے ایک ثابت شدہ اور قائم شدہ مذہب ہے۔ مگر "دین الہی" کی حیثیت اس وقت محض ایک ذہنی اپچ کی تھی۔ اس بنا پر راجہ مان سنگھ کی سمجھ میں اسلام آیا، مگر دین الہی اس کی سمجھ میں نہ آسکا۔ یہ اسلام کے حق میں ایک عظیم الشان تائید ہے۔ اگر ہم لوگوں کو اسلام کی طرف بلائیں تو لوگوں کو محسوس ہوگا کہ انہیں ایک معلوم اور مسلم چیز کی طرف بلایا جارہا ہے، جب کہ دوسرے مذاہب کا حال یہ ہے کہ وہ یا تو دین الہی" کی طرح غیر معروف ہیں یا ہندو ازم اور بدھزم اور مسیحیت کی طرح غیر تاریخی۔ پاکستان کی خاتون وزیر اعظم بے نظیر بھٹو نے حال میں امریکہ کا دورہ کیا ہے۔ واپسی کے بعد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader