آغازِ کلام
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے ۲۰ جون کو اسلام آباد میں سعودی گزٹ (ریاض) کے نمائندہ سے ملاقات کی۔ ٹائمس آف انڈیا (۲۱ جون ۱۹۸۹) کے مطابق، انہوں نے گفتگو کے دوران کہا کہ میرے پاس اور میرے قبضہ میں ایسی معلومات ہیں، جو بتاتی ہیں کہ وہ (ضیا الحق) کتنے اسلام کے مخالف تھے: I have information in my records, in my possession, which shows how anti-Islam he was. جنرل محمد ضیا الحق سے پوچھا جائے تو وہ بے نظیر کو سب سے بڑا اسلام دشمن بتائیں گے۔ اس کے برعکس بے نظیر بھٹو کے نزدیک ضیا الحق سب سے بڑے اسلام دشمن تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر قیامت نہ آئے تو کسی بھی چیز کی حقیقت کھلنے والی نہیں۔ حتی کہ یہ بھی معلوم نہیں ہو سکتا کہ کون اسلام دوست تھا اور کون اسلام دشمن۔ ۲۲ جون ۱۹۸۹ عربی مدارس کے بارہ میں میرا تاثر یہ ہے کہ وہاں کوئی بھی "علم" نہیں پڑھایا جاتا، حتی کہ اسلام کا علم بھی نہیں۔ میری تعلیم عربی کے ایک مدرسہ میں ہوئی۔ یہاں جغرافیہ کے بارہ میں کوئی بھی کتاب شامل نصاب نہ تھی۔ نہ ہاں کی مجلسوں میں، جغرافیہ کے بارہ میں کچھ بتایا جاتا تھا۔ اس کے باوجود یہ اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ میں نے دوران تعلیم ہی میں جغرافیہ کے بارہ میں بہت کچھ جان لیا۔ اس واقفیت کا ذریعہ ٹکٹ (پوسٹیج اسٹمپ) تھا. مجھے بچپن ہی سے ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہو گیا۔ یہ شوق مجھے مسٹر عتیق احمد انصاری کے ذریعہ ملا۔ جو اس زمانہ میں لکھنو میں لائیچیئر کالج میں پڑھتے تھے۔ وہ میرے عزیز بھی تھے اور دوست بھی۔ وہ خود ٹکٹ کے شوقین تھے ۔ ہر بار جب وہ گرمیوں کی چھٹیوں میں اعظم گڑھ آتے تو مجھے کچھ نہ کچھ ٹکٹ دیتے ۔ عتیق احمد انصاری کے والد مشتاق احمد انصاری لکھنو میں جیل انڈسٹریز کے سپرنٹنڈنٹ تھے۔ ہمارے مدرسہ کے دفتر میں لکڑی کا ایک بڑا باکس تھا ۔ اس میں ایک بہت موٹا سا البم رکھا ہوا تھا۔ یہ کسی بہت باذوق آدمی نے بنایا تھا۔ اور پھر مدرسہ کو دے دیا۔ اس میں دنیا کے تمام ملکوں کے ٹکٹ تھے۔ ہماری بستی کے منشی محمود علی صاحب مدرسہ میں محر (کلرک)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader