Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

تھے ۔ انہوں نے میرے شوق کو جان کر ٹکٹوں کا یہ البم مجھے دکھایا ۔ اور اس البم کے بہت سے ٹکٹ مجھے دئے ۔ چند سال میں میرے پاس اکثر ملکوں کا ٹکٹ ہو گیا ۔ میرا ٹکٹوں کا البم میرے لئے جغرافیہ کی کتاب بن گیا ۔ عتیق احمد انصاری سے اور دوسرے لوگوں سے میں ان ملکوں کے حالات معلوم کرتا جس کے ٹکٹ میرے پاس موجود تھے ۔ نیز کتابوں کے ذریعہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کرتا ۔ اس طرح ٹکٹوں کے شوق نے مجھے دوران تعلیم ہی میں ضروری جغرافی معلومات دے دی ۔ ۲۳ جون ۱۹۹۳ء برما کے دو مسلمان ملاقات کے لئے ۔ ایک کا تعلق مانڈے سے تھا ، دوسرے کا تعلق رنگون سے ۔ وہ جلال آباد کے مدرسہ میں تعلیم کے لئے آئے تھے ۔ اب فارغ ہو کر واپس اپنے وطن جا رہے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ اراکان (Arakan) کے علاقہ کے مسلمانوں نے ۲۰ سال پہلے ایک فوجی پارٹی بنائی ۔ اس کا نام بسم اللہ ناپھوے (بسم اللہ فوجی پارٹی) تھا ۔ اس کا مقصد ارکان کو آزاد کر کے علیحدہ مسلم ریاست بنانا تھا۔ مگر حکومت نے ظالمانہ طور پر اس تحریک کو کچل دیا۔ تقریباً دو لاکھ مسلمان الاکان چھوڑ کر بھاگ گئے۔ ابھی تک اراکان کے مسلمانوں کے ساتھ تعصب برتا جا رہا ہے ۔ حالاں کہ اب تحریک اندرونی طور پر ختم ہو چکی ہے ۔ میں نے کہا کہ بنگلہ دیش کے ہندو علیحدگی کی تحریک چلائیں تو اس کو تمام مسلمان سازش اور غداری کہتے ہیں ۔ اور برما کے مسلمان اس قسم کی علیحدگی کی تحریک چلائیں تو وہ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کی تحریک بن جاتی ہے ۔ مسلمانوں کو ایک معیار اختیار کرنا چاہئے۔ یا تو وہ دونوں جگہ اس کو آزادی کی تحریک کہیں یا دونوں جگہ غداری کی تحریک ۔ موجودہ صورت انہیں بربادی کے سوا اور کہیں نہیں پہنچائے گی ۔ یہی صورت آج تمام دنیا میں ہے ۔ مسلم ملکوں کی غیر مسلم آبادی اگر علیحدگی کا مطالبہ کرے تو وہ مسلمانوں کے نزدیک بغادت ہے۔ اور غیر مسلم ملکوں کے مسلمان اگر علیحدگی کا مطالبہ کریں تو وہ مسلمانوں کے نزدیک آزادی کی جد و جہد ہے۔ یہ دوہرا معیار نہ خدا کے نزدیک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page