Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 113

By Maulana Wahiduddin Khan

مقبول ہے اور نہ انسانوں کے نزدیک مقبول۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں اپنی بیوی کو طلاق دینا چاہتا ہوں۔ ان کے یہاں ایک بچی بھی پیدا ہو چکی ہے۔ مگر بیوی پستہ قد اور بھدی شکل کی ہے۔ اس لئے ان کو ازدواجی مسرت حاصل نہیں۔ میں نے انہیں سختی سے منع کیا۔ میں نے کہا کہ نکاح سے پہلے آدمی کو ہزار بار سوچنا چاہئے۔ مگر نکاح کے بعد اس کو چاہئے کہ نباہ کے سوا ہر سوچ کا دروازہ بند کر دے۔ اسلام میں غیر عورت کو قصد اً دیکھنا جائز نہیں۔ مگر مخطوبہ کو دیکھنا نہ صرف جائز بلکہ مطلوب قرار دیا گیا ہے۔ دوسری طرف طلاق کے بارہ میں حدیث میں آیا ہے کہ وہ ابغض المباحات ہے ــــــــ گویا نکاح سے پہلے ممنوعہ حد تک تحقیق کی اجازت دی گئی ہے۔ مگر نکاح کے بعد مباح حد میں داخلہ کو بھی پسند نہیں کیا گیا۔ 25 جون 1989ء ایک تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔ وہ نہایت ذہین اور سوچ سمجھ بوجھ والے آدمی ہیں۔ مگر آدمی خواہ کتنا ہی سمجھدار ہو، اس کی سمجھ محدود ہوتی ہے۔ انھوں نے دبئی (عرب امارات) میں ہوٹل کھولا۔ مگر ہوٹل نا کام ہو گیا۔ پندرہ لاکھ روپیہ کا گھاٹا دے کر انہیں ہوٹل کو بند کر دینا پڑا۔ انھوں نے اپنے ہوٹل میں مغل خانوں کا اعلیٰ انتظام کیا تھا۔ ان کا آئیڈیا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان کے لاکھوں لوگ جو عرب امارات میں رہتے ہیں، وہ اپنی پوری فیملی کے ساتھ کھانا پسند کریں گے۔ چنانچہ انھوں نے ہوٹل کا نظام اس طرح بنایا کہ ایک شخص اپنی پوری فیملی کے ساتھ آئے اور ایک میز پر اپنی پسند کا کھانا کھا سکے۔ مگر ساری ذہانت کے باوجود ان سے ایک چوک ہو گئی۔ وہ یہ کہ لوگ فیملی کے ساتھ صرف چھٹی کے دن آ کر کھانا کھا سکتے ہیں۔ وہ اس طرح روزانہ نہیں آ سکتے۔ چنانچہ ہفتہ کی چھٹی کے دن تو ان کے یہاں زبردست بھیڑ لگ جاتی۔ مگر بقیہ دنوں میں بالکل سناٹا رہتا۔ چنانچہ مجبور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page