Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 114

By Maulana Wahiduddin Khan

کا بہت گہرا تعلق "آئندہ " کو جاننے سے ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں آدمی کو اپنا عجز تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ مارکسی اشتراکیت کے بارے میں میری کتاب پہلی بار ۱۲ اپریل ۱۹۵۹ میں چھپی۔ اس کو مکتبہ جماعت اسلامی رامپور نے چھاپا تھا۔ کتاب کا نام یہ تھا: مارکسزم جس کو تاریخ رد کر چکی ہے۔ ۳۰ سال پہلے کتاب کا یہ نام لوگوں کو بہت عجیب معلوم ہوا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ مارکسزم تو پوری طاقت کے ساتھ زندہ ہے ، پھر آپ کیسے کہتے ہیں کہ تاریخ نے اس کو رد کر دیا۔ مگر اب ۳۰ سال بعد یہ حقیقت ہر ایک کی سمجھ میں آرہی ہے۔ امریکہ کے ٹائم میگزین نے اپنے شمارہ ۵ جون میں ایک تفصیلی رپورٹ دی تھی جس میں ایسے حقائق پیش کئے گئے تھے جس سے یہ ثابت ہو رہا تھا کہ روس اور چین میں کیوئزم زوال کی طرف جار ہا ہے۔ ٹائم (۲۶ جون) میں اس رپورٹ پر قارئین کے خطوط چھپے ہیں۔ ہانگ کانگ کا ایک قاری لکھتا ہے : The world is witnessing the last convulsions of a dying beast called Communism, which will not last to the year 2000. (Francesco M. Bongiovanni) دنیا اس مرتے ہوئے حیوان کی آخری لٹمنی حالت کا مشاہدہ کر رہی ہے جس کو کیونزم کہا جاتا ہے ۔ اور جو ۲۰۰۰ تک باقی رہنے والا نہیں۔ ۲۷ جون ۱۹۸۹ سرجان ہکس (Sir John Hicks) موجودہ زمانہ کا مشہور ماہر اقتصادیات ہے۔ ۲۰ مئی ۱۹۸۹ کو اس کا انتقال ہو گیا۔ بوقت انتقال اس کی عمر ۸۵ سال تھی۔ علم اقتصادیات میں وہ مجتہدانہ رائے رکھتا تھا۔ مثلاً اس نے لارڈ کینینر کی جنرل تھیوری (General Theory) سے سخت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page