آغازِ کلام
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
اختلاف کیا ۔ اس کا کہنا تھا کہ اقتصادیات ایک ڈسپلن ہے نہ کہ سائنس: Economics is not a science but a discipline. سرجان ہکس کو نوبیل انعام ملا تو اس نے اس کا بڑا حصہ لندن اسکول لائبریری کو دیدیا وہ دولت برائے دولت کا قائل نہ تھا۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں اسی کے مطابق عمل کیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ موجودہ زمانہ میں اس قسم کے اہل علم وہ بہترین افراد تھے جن کو اسلام کا پیغام پہنچایا جاتا ۔ مگر مصلحین نے یا تو صرف مسلمانوں کے اندر اصلاحی کام کیا۔ اور اگر غیر مسلموں میں کچھ کام کیا تو ان کے پست طبقات میں۔ غیر مسلموں کے اعلیٰ ذہن اور تعلیم یافتہ طبقہ کو وہ خدا کے دین کا مخاطب نہ بنا سکے۔ ۲۸ جون ۱۹۸۹ انگریز جب ہندوستان میں آئے تو انھوں نے یہاں سب سے بڑا اتحاد پیدا کیا۔ انھوں نے ہمالیہ سے لے کر راس کماری تک پورے برصغیر کو ایک متحدہ ملک کی حیثیت دے دی۔ مگر ۱۹۴۷ میں جب وہ اس ملک کو چھوڑ کر گئے تو انھوں نے اس کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ تاکہ وہ ابدی طور پر آپس میں لڑتے رہیں اور کبھی دوبارہ متحد نہ ہو سکیں ــــ انہیں اپنے لئے کچھ پسند تھا اور دوسروں کے لئے کچھ۔ ۲۹ جون ۱۹۸۹ موجودہ زمانہ کے جو مسلم رہنما ہیں، خواہ وہ بے ریس ہوں یا باریش۔ ان کے بارہ میں میری رائے بے حد سخت ہے۔ ان کے بیانات کو سن کر اور ان کے حالات کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب کے سب محض ایکسپلائٹرز ہیں۔ حتیٰ کہ اکثر ایک آہ کے ساتھ یہ جملہ میری زبان سے نکل جاتا ہے کہ اگر یہی وہ لوگ ہیں جو جنتوں میں داخل کئے جانے والے ہیں تو جہنم کو خالی رہنا چاہئے، کیوں کہ دوسرے لوگ بہرحال ان سے کم برے ہیں۔ ہندوستان میں مسلمان بھی ہیں اور عیسائی بھی۔ دونوں اقلیتی فرقے ہیں۔ مگر دونوں کے مزاج میں بعد المشرقین کا فرق پایا جاتا ہے۔ مثال کے طور پر عیسائیوں نے تعلیم کے میدان میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader