آغازِ کلام
Urdu book, p. 116
By Maulana Wahiduddin Khan
قدم رکھا تو انھوں نے ابتدائی تعلیم کے ادارے قائم کئے ۔ ملک میں عیسائیوں کے اسکول تو بہت ہیں مگر عیسائیوں کی یونیورسٹی کوئی ایک بھی نہیں۔ مسلمانوں کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ انھوں نے اسکول کی سطح پر تعلیم کے انتظام کی طرف بہت کم توجہ دی، البتہ انھوں نے کئی یونیورسٹیاں قائم کر دیں۔ مسلم یونیورسٹی عثمانیہ یونیورسٹی، جامعہ ملیہ، ہمدرد یونیورسٹی، وغیرہ۔ اس فرق کا سبب یہ ہے کہ عیسائیوں کے پیش نظر ذہن بنانا تھا ، اور مسلمانوں کے پیش نظر منارہ فخر کھڑا کرنا۔ یکم جولائی ۱۹۸۹ ڈاکٹر عبداللہ النفیسی کویت کی یونیورسٹی میں استاد تھے۔ انھوں نے ایک کتاب لکھ کر شائع کی ۔ اس کا نام تھا: عند ما يحكم الاسلام رجب اسلام حکومت کرے گا)، اس کتاب میں کچھ ایسی باتیں تھیں جن سے کویت کے سیاسی نظام پر بالواسطہ تنقید ہوتی تھی۔ چنانچہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد ڈاکٹر عبداللہ النفیسی کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا۔ وہ اگر چہ کویت کے شہری تھے۔ مگر کویت میں انھیں کوئی اچھی جگہ نہ مل سکی۔ آجکل وہ عرب امارات میں ہیں اور وہاں کی یونیورسٹی میں کام کر رہے ہیں۔ عرب امارات میں وہ اس قیمت پر ہیں کہ انھوں نے دوبارہ سسٹم پر تنقید کرنے کی غلطی نہیں کی جو انھوں نے اس سے پہلے کویت میں کی تھی۔ ۲ جولائی ۱۹۸۹ امام مالک کہتے ہیں کہ جب میں چھوٹا تھا تو گولیوں کے پیچھے لگا رہتا تھا۔ ان سے گانا سیکھتا تھا۔ ایک دن میری ماں نے مجھ سے کہا کہ بیٹا ، گویا اگر بد شکل ہو تو وہ گویا کی حیثیت سے مقبول نہیں ہو سکتا ۔ اس لئے تم گانا چھوڑ دو۔ اور فقہ و حدیث کی تعلیم حاصل کرو۔ کیوں کہ فقہ وحدیث کے ساتھ بد شکلی کچھ نقصان نہیں پہنچاتی۔ چنانچہ میں نے گولیوں کی صحبت چھوڑ دی اور فقہا اور علما کے پاس رہنے لگا۔ اس کے بعد خدا نے مجھے اس مرتبہ پر پہنچایا جس پر تم اس وقت مجھے دیکھتے ہو۔ مذہب میں ہر چیز چھپ جاتی ہے اور اس کی وجہ مذہب میں تقدس کا پہلو ہے۔ مذہبی لوگوں کے لئے تقدس ایک پر اسرار پردہ کا کام کرتا ہے۔ یہ خصوصیت مذہب کے سواکسی اور چیز کو حاصل نہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader