Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

کی قیمت تقریباً ایک کروڑ روپیہ ہے۔ یہاں بہت سے کشمیری جمع ہوئے، کئی نشستوں میں میں نے اسلام کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کی۔ یہ لوگ بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ میری تحریک پر انہوں نے ایک مسجد کی تعمیر شروع کی اور مجھ سے اس کا سنگِ بنیاد رکھوایا۔ اس پورے علاقہ کا قدیم نام بدل کر " وحید آباد " رکھ دیا۔ وغیرہ۔ کشمیری لوگ بہت جذباتی ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یہ سب محض وقتی جذباتیت کا نتیجہ ہو۔ لیکن اگر انھوں نے گہرے طور پر ہماری دعوت کو سمجھا ہو تو یہ مقام انشاء اللہ آئندہ الرساله مشن کا ایک طاقتور مرکز بن جائے گا۔ ۴ جولائی ۱۹۸۹ سری لنکا میں اس وقت تقریباً ۵۰ ہزار ہندوستانی فوجی ہیں۔ حکومتِ ہند ان کے اوپر روزانہ ۲ کروڑ روپیہ خرچ کرتی ہے۔ اس طرح اب تک ۱۲ ہزار کروڑ روپیہ سے زیادہ رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ سری لنکا کے صدر رانا سنگھے پریم داسا بار بار کہہ رہے ہیں کہ ہندوستانی فوج فوراً لنکا سے واپس جائے، مگر راجیو گاندھی فوج کو بلانے کے لئے تیار نہیں۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اندر اگا ندھی نے جو کچھ بنگلہ دیش میں ہوشیاری کے ساتھ کیا تھا، اس کو راجیو گاندھی لنکا میں بے وقوفی کے ساتھ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر چہ بنگلہ دیش کے معاملہ میں بھی ہندوستان کی شرکت ایک غلطی تھی۔ ۱۹۷۱ میں ہندوستان نے جو کچھ بنگلہ دیش میں کیا وہی ۱۹۸۹ میں پاکستان نے کشمیر میں ہمارے خلاف شروع کر دیا۔ بمبئی سے برہمن ازم کے خلاف ایک کتاب چھپی ہے جس کی قیمت ۹۵ روپیہ ہے۔ کتاب کا نام اور مصنف کا نام یہ ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page