آغازِ کلام
Urdu book, p. 118
By Maulana Wahiduddin Khan
کتاب میں پسماندہ طبقہ کے مشہور مصلح جیوتی راؤ پھولے (۱۸۹۰-۱۸۲۷) کے متعلق بتایا گیا ہے کہ انھوں نے برطانی اقتدار کا استقبال کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اگر شودروں کو ترقی کرنی ہے تو انھیں برطانی اقتدار کو بطور ناگزیر برائی کے اختیار کرنا ہوگا: ہندوستان کا سب سے بڑا سماجی مسئلہ طبقاتی عدم مساوات ہے۔ یہ مسئلہ نہ برطانی اقتدار کے زمانہ میں ختم ہوا۔ نہ آزادی کے انقلاب نے اس کو ختم کیا اور نہ مہاتما گاندھی کی ہر جن تحریک اس کا خاتمہ کر سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس عدم مساوات کی جڑیں خود ہندو مذہب میں گہرائی کے ساتھ موجود ہیں۔ اس کا خاتمہ صرف دو صورتوں میں ہو سکتا ہے۔ یا تو ہندو مذہب مٹ جائے یا ہر جن ہندو مذہب کو چھوڑ کر نیا مذہب اختیار کر لیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ کا واحد حل اسلام ہے۔ اگرچہ مسلمانوں کے احمقانہ لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے ابھی تک ملک کے اندر وہ معتدل فضا نہیں بنی جب کہ سنجیدہ طور پر اس حل کے بارے میں غور کیا جاسکے۔ ۴ جولائی ۱۹۸۹ صبح کو سورج نکلنے سے پہلے قریب کے پارک میں ٹہل رہا تھا۔ اس دوران قرآن کی یہ آیت یاد آئی: وفی اموالهم حق للسائل والمحروم (اور ان کے مالوں میں حق ہے سائل اور محروم کے لئے) میں نے سوچا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لئے یہ اصول مقرر کیا ہے کہ حقداروں کے علاوہ سائل اور محروم کو بھی اپنے مال میں سے دیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اپنی جنت کے لئے ضرور یہ اصول رکھا ہوگا۔ یہ سوچتے ہوئے بے اختیار دل سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، میں حق داری کی بنیاد پر آپ کی جنت میں حصہ پانے کا مستحق نہیں، آپ سائل اور محروم ہونے کی بنیاد پر مجھے اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader