آغازِ کلام
Urdu book, p. 119
By Maulana Wahiduddin Khan
جنت میں حصہ دار بنا دیجئے۔ لارڈ ہیلی فیکس (Lord Halifax) نے کہا ہے کہ جب لوگ اپنی آزادی کے لئے لڑیں، تو کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ اپنی فتح کے ذریعہ نئے آفتاؤں کے سوا کچھ اور پاسکیں: When the people contend for their liberty they seldom get anything by their victory but new masters. عقل اور تجربہ کے مطابق یہ بات نہایت صحیح ہے۔ ہندوستان میں مسلم علماء نے انگریزی اقتدار کے خلاف آزادی کی تحریک چلائی مگر ۱۸۵۷ سے لے کر ۱۹۴۷ تک لمبی جدوجہد کے بعد جب آزادی ملی تو معلوم ہوا کہ وہ ملک کے اکثریتی فرقہ کے محکوم ہو کر رہ گئے ہیں۔ پاکستان کے اسلام پسندوں نے جنرل ایوب خاں کی غلامی کے خلاف تحریک چلائی مگر اس کے بعد معلوم ہوا کہ وہ جنرل ایوب کی غلامی سے نکل کر ذوالفقار علی بھٹو کی غلامی میں پہنچ گئے ہیں۔ مصر کے اسلامی رہنماؤں نے شاہ فاروق کے اقتدار سے آزاد ہونے کی تحریک چلائی۔ مگر یہ آزادی صرف اس قیمت پر ملی کہ اس کے بعد وہ فوجی افسر کی شدید تر غلامی میں داخل ہو چکے تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی تحریکیں جان و مال کے ضیاع کے سوا اور کچھ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو نہایت تاکید کے ساتھ یہ ہدایت فرمائی کہ حکمران، خواہ وہ تمہاری نظر میں کتنا ہی برا ہو، اس کے خلاف سیاسی تحریک سے اعراض کرو۔ حکمرانوں کے خلاف سیاسی ٹکراؤ سے بچ کر دوسرے میدانوں میں اصلاح و تعمیر کے کام میں لگ جاؤ۔ ۸ جولائی ۱۹۸۹ قومی آواز (۷ جولائی ۱۹۸۹) میں جناب محمد یونس سلیم صاحب کا ایک مفصل مضمون چھپا ہے جس کا عنوان ہے: مسلم کنونشن اور ان کا پس منظر۔ مضمون میں بت گیا ہے کہ ہندوستان کی آزادی حاصل کرنے کے بعد نومبر ۱۹۴۷ میں مسلمانوں کا پہلا تاریخی اجتماع دہلی میں منعقد ہوا۔ یہ اجتماع مولانا ابوالکلام آزاد کی ایما پر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader