Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

کو نہیں ملتے کہ ان کے مفروضہ اکابر کی تائید اسے حاصل نہیں۔ امریکہ کے سفر (دسمبر ۱۹۸۸) میں میری ملاقات ایک مسلمان سے ہوئی۔ وہ پاکستان سے آکر امریکہ میں آباد ہوئے، اور اب یہیں کے شہری ہو چکے ہیں۔ اس سے پہلے ان کے پاس امریکہ میں دس اسٹور تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ان میں نو اسٹور کو فروخت کر کے اس کی رقم انھوں نے شیئر زمین اور جائیدادوں وغیرہ میں لگا دی ہے۔ اب اپنے پاس صرف ایک اسٹور رکھا ہے جہاں عام ضرورت کا سامان فروخت ہوتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کے فضل سے اب میرے اور میرے بچوں کے لئے کھانے پینے کا انتظام ہو گیا ہے۔ اب تو مجھے جنت کا ٹکٹ چاہئے۔ اب میں صرف جنت کے ٹکٹ کی تلاش میں ہوں۔ مسلمانوں میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جو اس نفسیات سے دوچار ہیں۔ وہ جنت کا ٹکٹ چاہتے ہیں۔ مگر اکثر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ جنت کا ٹکٹ چاہتے ہیں۔ اس نفسیات کی بنا پر اکثر وہ ان لوگوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں جو خود ساختہ ٹکٹ (Fake ticket) لے کر جگہ جگہ بیٹھے ہوئے ہیں۔ وہ ان میں سے کوئی "ٹکٹ" خرید کر مطمئن ہو جاتے ہیں کہ انھوں نے اپنے لئے جنت کا انتظام کر لیا۔ حالاں کہ یہ خود فریبی کے سوا اور کچھ نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنت کا ٹکٹ کسی دکان پر نہیں بکتا۔ جنت کا ٹکٹ آدمی کا خود اپنا وجود ہے۔ یہی وہ واحد قیمت ہے جس کو ادا کر کے آدمی جنت کا مستحق بن سکتا ہے۔ ۱۳ جنوری ۱۹۸۹ آج عمر فاروق (Umar Faruuk) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ ترک ہیں اور استانبول کے رہنے والے ہیں۔ آجکل اسلام آباد (پاکستان) میں ریسرچ کر رہے ہیں۔ ہندوستان میں اسلامی تنظیموں کا مطالعہ کرنے کے لئے آئے ہیں۔ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبان

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page