آغازِ کلام
Urdu book, p. 120
By Maulana Wahiduddin Khan
اندھیری راہوں میں پھاد و جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے۔ اس کے بعد جمعیۃ علماء ہی کی جانب سے بمبئی میں ۱۹۵۴ء میں ایک دینی تعلیمی کانفرنس منعقد کی گئی۔ مولانا حفیظ الرحمن صاحب اس کانفرنس کے روح رواں تھے۔ اس کانفرنس میں پرجوش تقریروں کے بعد یہ طے کیا گیا کہ ملک بھر میں دینی مدارس قائم کئے جائیں اور موجودہ مدارس کو تقویت پہنچائی جائے۔ دسمبر ۱۹۵۶ء میں مدراس میں ساؤتھ انڈیا مسلم کنونشن ہوا۔ اس کی صدارت ڈاکٹر سید محمود نے کی جو اس وقت حکومت ہند میں امور خارجہ کے منسٹر تھے۔ کنونشن کے شرکاء نے اپنی تقریروں میں اپنے آپ کو تو آل تو ضرور ثابت کیا مگر اس کے بعد وہ فعال نہ رہ سکے۔ جون ۱۹۶۱ء میں دہلی (سپر و ہاؤس) میں ایک کامیاب کنونشن ہوا۔ مولانا حفیظ الرحمن اس کے سرگرم دعائی تھے۔ ڈاکٹر سید محمود نے اپنے خطبہ صدارت میں کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کو دوسرے درجہ کا شہری بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ بعد کو پنڈت جواہر لال نہرو اور ڈاکٹر سید محمود کے درمیان " درجہ دوم کے شہری " پر بڑی تیز جھڑپ ہوئی۔ ستمبر ۱۹۶۲ء میں دہلی میں جمہوری کنونشن ہوا۔ اس کا اہتمام مولانا اسعد مدنی نے کیا تھا۔ اس کنونشن کو مرار جی ڈیسائی نے بھی مخاطب کیا تھا۔ ان کے چند جملے مفتی عتیق الرحمن صاحب کو سخت ناگوار گزرے تھے۔ انھوں نے کھڑے ہو کر مرار جی ڈیسائی کو ٹوکا۔ تھوڑی دیر کے لئے کنونشن کی فضا مکدر ہو گئی۔ اگست ۱۹۶۳ء میں ایک مسلم اجتماع ندوہ (لکھنؤ) میں ہوا۔ ڈاکٹر سید محمود اس کے صدر تھے۔ اسی موقع پر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کی بنیاد ڈالنے کی تجویز بھی منظور کی گئی۔ نومبر ۱۹۶۳ء میں ڈاکٹر سید محمود نے آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے لئے گیارہ رکنی مجلس کی تشکیل کا اعلان کیا۔ اس طرح باضابطہ طور پر مجلس مشاورت عمل میں آئی اور اس نے ملک میں دورہ کر کے تقریریں شروع کیں۔ پنڈت سندر لال بھی اس میں شریک تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader