آغازِ کلام
Urdu book, p. 121
By Maulana Wahiduddin Khan
۱۹۷۴ میں پرسنل لا کے تحفظ کے عنوان سے مسلمانوں کا اجتماع ہوا اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام عمل میں آیا۔ اسی کے تحت شاہ بانو بیگم کی تحریک چلائی گئی۔ اب جولائی ۱۹۸۹ میں سید شہاب الدین صاحب کا مسلم سیاسی کنونش ہورہا ہے۔ پچھلے پچاس برس میں ہندوستان کے مسلم رہنمائوں نے اس طرح کے سیکڑوں چھوٹے بڑے اجتماع کئے ہیں۔ مگر جہاں تک مسلم مسائل کا معاملہ ہے وہ ابھی تک روزِ اول کے مرحلہ میں پڑے ہوئے ہیں۔ کیا اس سے ثابت نہیں ہوتا کہ یہ تمام کنونشن اور اجتماعات محض وقتی مظاہرے تھے، اور وقتی مظاہروں کے ذریعہ کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔ ۹ جولائی ۱۹۸۹ محمد شمیم صاحب (ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ہندو افسر نے مجھ سے سوال کیا کہ آپ لوگ جانور کو حلال کرتے ہیں اور مچھلی کو حلال کئے بغیر کھاتے ہیں۔ یہ فرق کیوں۔ محمد شمیم صاحب نے جواب دیا کہ اصل یہ ہے کہ خون تمام بیماریوں کا سبب سمجھا جاتا ہے۔ اس لئے جانور (بکری وغیرہ) کو اس طرح (Carrier of all diseases) ذبح کیا جاتا ہے کہ اس کے جسم کا پورا خون باہر نکل جائے۔ اس طرح ذبح کیا ہوا جانور ہر قسم کے جراثیم سے بالکل پاک ہو جاتا ہے۔ مگر مچھلی میں گردشِ خون (Circulation of blood) کا نظام نہیں ہوتا۔ چنانچہ مچھلی کے لئے یہ مسئلہ نہیں۔ اس لئے مچھلی کو ذبح کئے بغیر سادہ طور پر مار کر کھایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ نے نہایت صحیح جواب دیا۔ ۱۰ جولائی ۱۹۸۹ ریوارول (Antoine Rivarol) ایک فرانسیسی جرنلسٹ تھا۔ وہ ۱۷۵۳ء میں پیدا ہوا، اور ۱۸۰۱ میں اس کی وفات ہوئی۔ اس کا قول ہے کہ پرنٹنگ پریس خیال کا توپ خانہ ہے: The printing press is the artillery of thought. یہ قول پرئیس کی اہمیت کو بتاتا ہے۔ اسلام میں جس چیز کو دعوت کہا جاتا ہے وہ یہی چیز ہے جو ہمیشہ اسلام کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہوئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader