Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 122

By Maulana Wahiduddin Khan

پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے اس طاقت کی اثر انگیزی کو بہت زیادہ بڑھا دیا ہے۔ مگر کیسی عجیب بات ہے کہ ماضی میں مسلمانوں نے اسلام کی دعوتی طاقت کو کامیابی کے ساتھ استعمال کیا مگر موجودہ زمانہ میں جب کہ وہ اس کو مزید زیادہ کامیابی کے ساتھ استعمال کر سکتے تھے ، اس کی اہمیت سے اس قدر غافل ہوئے کہ انہوں نے سرے سے اس کو استعمال ہی نہیں کیا۔ ۱۱ جولائی ۱۹۸۹ تفسیر قرطبی فقہی انداز کی تفسیر ہے۔ قرطبی امام مالک کے مسلک کے تھے۔ تاہم انہوں نے بعض مقامات پر امام مالک سے اختلاف کیا ہے۔ مشلاج کے موقع پر جوری جو رم کیا جاتا ہے، اس کے متعلق حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چھوٹی کنکریاں بیچنے کی دال کے برابر ، ماری جاسکتی ہیں۔ اس سلسلہ میں امام مالک نے کہا ہے کہ اس سے بڑی کنکری مجھے کو زیادہ محبوب ہے (واکبر من ذالك احب الی) قرطبی نے اس پر تنقید کی ہے اور کہا ہے کہ مالک کے اس قول کے کوئی معنی نہیں (ولا معنی لقول مالک)، اس تنقید میں استخفاف کا عنصر شامل ہے۔ مگر کسی نے اس کو برا نہیں مانا۔ موجودہ زمانہ میں تو لوگ تنقید کے بارہ میں اتنے حساس ہو گئے ہیں کہ خالص علمی اور تجزیاتی تنقید بھی انہیں گوارا نہیں۔ ۱۲ جولائی ۱۹۸۹ نعت گوئی اپنی موجودہ مدحیہ شکل میں ایک بدعت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حسان بن ثابت انصاری وغیرہ کے کہے اشعار ہیں جن کو نعت میں شمار کیا جاتا ہے۔ مگر آجکل کے مفہوم کے اعتبار سے وہ نعت نہیں۔ یہ دراصل جوابی اشعار ہیں جو مشرکین کی منظوم ہجو کے رد میں لکھے گئے۔ مشرکین چونکہ اشعار کی صورت میں ہجو کرتے تھے، اس لئے اشعار کی صورت میں ان کا جواب دیا گیا۔ صحابہ کے بعد جب اسلام کا اقتدار قائم ہو گیا اور بیشتر لوگ اسلام کے دائرہ میں داخل ہو گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہجو کا سلسلہ ختم ہو گیا، اس کے بعد نعت گوئی بھی اپنے آپ ختم ہو گئی۔ صحابہ کے بعد تقریباً چھ سو سال تک نعت یا نعت گو شعرادا کا وجود نہیں ملتا۔ بوصیری (۶۹۶ - ۶۰۸) غالباً پہلے شخص ہیں جنھوں نے پہلی بار موجودہ طرز کی نعت لکھی جو قصیدہ بردہ کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page