آغازِ کلام
Urdu book, p. 123
By Maulana Wahiduddin Khan
نام سے مشہور ہے۔ بوصیری کے تفصیلی حالات کشف الظنون میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ اس مثال سے معلوم ہوتا ہے کہ شعر کا کوئی مثبت رول اسلامی معاشرہ میں نہیں ہے، وہ زیادہ سے زیادہ دفاع کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، وہ بھی اس وقت جب فروتنانی نے اشعار کے ذریعہ اسلام یا پیغمبر اسلام پر حملہ کیا ہو۔ یہ حملہ اگر نشر کی صورت میں کیا گیا ہو تو نشر کی صورت میں اس کا جواب دیا جائے گا، البتہ اگر یہ حملہ اشعار کے ذریعہ کیا جائے تو اشعار کے ذریعہ اس کا جواب دینا جائز ہوگا۔ ۱۳ جولائی ۱۹۸۹ سیرت کی کتابوں میں ابوطالب کے کچھ قصیدے نقل کئے گئے ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غیر معمولی تعریف کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر ایک طویل قصیدہ کا ایک شعر ہے جس میں وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں کہتے ہیں کہ وہ ایسے روشن چہرہ والا ہے کہ اس کے وسیلہ سے بارش طلب کی جاتی ہے، یتیموں کی سرپرستی کرنے والا اور بیواؤں کی پناہ : وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ ثِمَالَ الْيَتَامَى عِصْمَةً لِلْأَرَامِلِ ابوطالب آخر وقت تک ایمان نہیں لائے۔ اس لئے ان کے اس قسم کے اشعار جذبہ ایمانی کے تحت نکلے ہوئے نہیں کہے جاسکتے۔ علماء نے لکھا ہے کہ ابوطالب نے یہ قصیدہ خاندانی فخر کے لئے کہا تھا۔ کیوں کہ بھتیجے کا فخر چا کو پہنچتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا معاملہ بھی کچھ اسی قسم کا ہے۔ کتنے لوگ ہیں جن کو اسلام یا سنت نبوی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ مگر اشعار کی صورت میں وہ شاندار نعت کہتے ہیں۔ اس قسم کی نعتیں بھی حقیقتاً ایمان و اسلام کے لئے نہیں ہوتیں، بلکہ وہ قومی افتخار کے لئے ہوتی ہیں۔ کیوں کہ قوم کا فخر قوم کے فرد کو پہنچتا ہے۔ ۱۴ جولائی ۱۹۸۹ ایک اسپینی مثل ہے کہ ذاتی معرفت سے ذاتی ترقی کا آغاز ہوتا ہے۔ انگریزی زبان میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا گیا ہے: Self-knowledge is the beginning of self-improvement.

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader