Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 124

By Maulana Wahiduddin Khan

ارتقا کا آغاز ہو۔ اپنے آپ کو جاننا اس وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ آدمی اپنے آپ کو کامل طور پر غیر جانب دارانہ نظر سے دیکھ سکے۔ کویت کے ماہنامہ العربی (جولائی ۱۹۸۹) کے صفحہ ۴۰ پر عربی ادیب توفیق الحکیم کا ایک قول نقل کیا گیا ہے: لا یطفئ مصباح العقل غیر عواصف النفس۔ عقل کے چراغ کو نفس کی آندھی کے سوا کوئی اور چیز نہیں بجھاتی۔ یہ صد فی صد حقیقت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عقل کی صورت میں انسان کو ایسی غیر معمولی صلاحیت دی ہے جو ہر چیز کو سمجھ سکتی ہے۔ عقل کی روشنی میں آدمی ہر معاملہ میں صحیح رائے قائم کر سکتا ہے۔ مگر خواہش عقل کی قاتل ہے۔ جب آدمی کی عقل صحیح فیصلہ کرنے سے قاصر رہتی ہے تو اس کا واحد سبب یہ ہوتا ہے کہ آدمی کی عقل اس کی خواہش سے آزاد ہو کر نہ سوچ سکی۔ ۱۶ جولائی ۱۹۸۹ء کہا جاتا ہے کہ امام احمد بن حنبل کو ۷۰۰۷ ہزار سے زیادہ حدیثیں یاد تھیں۔ امام مسلم نے کہا ہے کہ میں نے اپنی کتاب صحیح مسلم ۳۰۰ ہزار حدیثوں سے لے کر تیار کی ہے (جمعت کتابی من ثلاث مأۃ ألف حدیث)، وغیرہ اس طرح کی باتوں سے بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ حدیثیں لاکھوں کی تعداد میں تھیں یا ہیں۔ مگر ایسا نہیں۔ یہ شبہ محدثین کی اصطلاح کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے۔ کیوں کہ وہ حدیثوں کی تعداد کو طرق کی تعداد سے شمار کرتے ہیں۔ مثلاً حدیث انما الاعمال بالنیات ۷۰ء طریقوں سے مروی ہے۔ ایک محدث ان کے مجموعہ کو ۷۰ حدیث کہے گا۔ حالاں کہ وہ صرف ایک حدیث ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صحیح اور معتبر احادیث کی اصل تعداد اس سے بہت کم ہے۔ حاکم نے صراحت کی ہے کہ درجہ اول کی حدیثیں ۱۰ ہزار سے زیادہ نہیں (قد صرح الحاکم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page