Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 125

By Maulana Wahiduddin Khan

ابو عبد اللہ ان الاحادیث التی فی الدرجة الاولى لا تبلغ عشرة آلاف لاہور کے ماہنامہ میثاق (جولائی ۱۹۸۹) میں ’’ افغان جہاز سے سبق‘‘ کے زیر عنوان ایک نوٹ ہے، یہ نوٹ حسب ذیل ہے: افغان جہاد عظیم کامیابی حاصل کرنے کے بعد اگر آج تعطّل کا شکار ہو گیا ہے تو اس کی دوسری وجوہات بھی ہوں گی۔ اصل وجہ یہ ہے کہ مجاہدین سے ایک بڑی خطا ہوئی ہے۔ انھوں نے پروفیسر عبد الرب رسول سیاف کو جہاد کا امیر بنا کر ان کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ لیکن پھر توڑ دی۔ سات سات آٹھ آٹھ گروپ بن گئے اور اکثر میں تقسیم در تقسیم بھی پیدا ہو گئی۔ امدادی رقوم اور اسلحہ سب لوگ الگ الگ لینا چاہتے تھے۔ آج اس کا نتیجہ سامنے ہے۔ گوریلا طرز جنگ کے عادی مجاہدین نے ترخیل چھاؤنی کو جس طرح روند کر دکھا دیا اس کے بعد جلال آباد کی حیثیت کیا رہ گئی تھی۔ انھوں نے یہ کارنامہ باقاعدہ جنگ کے ذریعہ ہی انجام دیا تھا۔ لیکن پھر بدنظمی کے کُھدھیرے پر پانی پھیر دیا۔ ہر دھڑا اجلال آباد کی تسخیر کا سہرا اپنی پیشانی پر باندھنے کا آرزومند تھا۔ چنانچہ منصوبہ بندی کے بغیر اور اپنی قوت کو جمع کے بغیر ہر کمانڈر از خود چڑھ دوڑا۔ عظیم جانی نقصان اٹھانے کے باوجود جلال آباد مجاہدین کے راستہ کی دیوار بننا ہوا ہے۔ (صفحہ ۷۲) جو مجاہدین فتح اسلام سے پہلے اپنے نفس کو تائبوں میں نہ رکھ سکے وہ فتح و غلبہ کے بعد کیوں کر اپنے نفس کو تائبوں میں رکھنے میں کامیاب ہوں گے۔ جب کہ بعد کو یہ کام پہلے سے ہزار گنا زیادہ دشوار ہو چکا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے شورش پسند گروہ سے یہ امید رکھنا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر کے قرآن و سنت کی حکومت قائم کریں گے ایک ایسی خوش فہمی ہے جو کسی ایسے ہی دماغ میں جگہ پاسکتی ہے جو عقل و فہم سے بالکل خالی ہو۔ ۱۸ جولائی ۱۹۸۹ اطہر صدیقی ایم اے نے یہ واقعہ بتایا۔ وہ محمد ہدایت اللہ صاحب وائس پریذیڈنٹ انڈیا (۱۹۹۲ - ۱۹۰۵) کے پی اے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار سکھ پیشواؤں کا ایک وفد ہدایت اللہ صاحب سے ملنے کمرہ لایا۔ وہ لوگ سب کے سب کر پان لگائے ہوئے تھے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page