Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 126

By Maulana Wahiduddin Khan

پر سکریٹری کو بتایا۔ سیکریٹری نے کہہ دیا کہ کپانوں کے ساتھ اندر مت جانے دو۔ اور اگر وہ اصرار کریں تو ان کو گرفتار کر لو۔ اطہر صدیقی صاحب نے موقع کی نزاکت کو محسوس کیا۔ وہ فوراً اندر جاکر ہدایت اللہ صاحب سے ملے اور ان سے کہا کہ سیکورٹی افسر اور سکریٹری کا اصرار حکمت کے خلاف ہے۔ آپ ملٹری افسر سے براہ راست کہہ دیں کہ وہ ان لوگوں کو کپانوں کے ساتھ اندر آنے دیں۔ چنانچہ ہدایت اللہ صاحب نے ٹیلیفون پر سیکورٹی افسر کو ہدایت دے دی۔ اس کے بعد سکھ وفد کپانوں کے ساتھ اندر داخل ہوا۔ ہدایت اللہ صاحب کے سامنے پہنچتے ہی انہوں نے اپنی کمر پانوں کو اتارا کر ہدایت اللہ صاحب کے قدموں میں رکھ دیا اور کہا کہ کیا ہم کینہ پن کریں گے کہ یہاں آکر آپ کے اوپر ان کپانوں سے حملہ کریں۔ آپ ہمارے باپ ہیں۔ ہم تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتے۔ یہ صرف آپ کی نادانی ہے جو توفیق ثانی کو ہتھیار استعمال کرنے تک لے جاتی ہے۔ اگر آپ حکمت کا طریقہ اختیار کریں تو توفیق ثانی اپنے ہتھیاروں سمیت آپ کے قدموں میں گر پڑے گا۔ ۱۹ جولائی ۱۹۸۹ ایک صاحب ملنے کے لئے آئے۔ انہوں نے کہا کہ میں آپ کا الرسالہ پڑھتا ہوں۔ مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ صلح حدیبیہ کی بات کو اتنا کیوں دہراتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں آپ کو صلح حدیبیہ کے سوا کچھ اور نظر نہیں آتا۔ میں نے کہا کہ قرآن میں صلح حدیبیہ کو فتح مبین کہا گیا ہے۔ کئی صحابہ سے مروی ہے کہ وہ صلح حدیبیہ کو فتح عظیم سمجھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صلح حدیبیہ وہ طریق کار ہے جس سے کھلی فتح اور سب سے بڑی فتح کا دروازہ کھلا۔ دوسرے لفظوں میں کہا جاسکتا ہے کہ وہ ماسٹر اسٹریٹیجی ہے۔ ایسی حالت میں اگر الرسالہ میں اس کا بار بار ذکر کیا جاتا ہے تو اس میں اعتراض کی کیا بات

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page