Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 127

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ جب حدیبیہ اسلام کی ماسٹر اسٹریٹیجی ہے تو ہر مقام پر سب سے پہلے اس کو زیر عمل لانے کی کوشش کرنا چاہئے۔ اس کو صرف وہاں چھوڑا جاسکتا ہے جہاں وہ سرے سے قابل انطباق ہی نہ ہو ۔ ۲۰ جولائی ۱۹۸۹ء گورکھپور میں ایک قدیم ہندو ادارہ ہے جس کے تحت گیتا پریس ، کینسر اسپتال وغیرہ چل رہے ہیں۔ یہ ادارہ گو کشی کے مسئلہ پر ایک ویڈیو فلم بنارہا ہے ۔ اس کے نمائندہ بھیم سین چوپڑہ میرے پاس آئے اور مجھے اس میں شرکت کے لئے اصرار کیا۔ چنانچہ آج ویڈیو پارٹی آئی اور ریکارڈ کیا۔ میں نے حسب ذیل بیان دیا: "گھائے کو ذبح کرنا یا اس کا گوشت کھانا اسلام میں جائز ہے مگر وہ فرض نہیں ہے ۔ یعنی وہ permitted ہے مگر وہ obligatory نہیں ہے ۔ ہندوستان میں انگریزوں سے پہلے مغل حکمرانوں کی پالیسی یہ تھی کہ گائے کے ذبیحہ کو روکا جائے۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، اس وقت کے علماء اور صوفیا نے اس پالیسی کی مخالفت نہیں کی۔ اس کی وجہ ظاہری یہی تھی کہ اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی تعداد میں ہندو بستے ہیں۔ وہ لوگ عام طور پر گائے کو مقدس مانتے ہیں۔ چنانچہ ہندو بھائیوں کے جذبات کا احترام کرنے کے لئے ایسا کیا گیا۔ آج بھی میں سمجھتا ہوں کہ ہندوؤں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے مسلمانوں کو گھائے کا ذبیحہ بند کر دینا چاہئے، عقیدہ کے طور پر نہیں بلکہ وقتی پریکٹس کے طور پر ۔ چنانچہ عملاً ایسا ہی ہے، کہ مسلمان اس کو چھوڑے ہوئے ہیں، اور کسی ہندوستانی عالم نے یہ فتوی نہیں دیا کہ مسلمانوں کو ضرور گائے کا ذبیحہ کرنا چاہئے۔ اب ممکن ہے کہ گورنمنٹ کو گائے کے ذبیحہ سے دلچسپی ہو، کیونکہ اس سے فارن ایکسچینج مل سکتا ہے، ورنہ مسلمانوں کو اب اس مسئلہ سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ سب سے بڑی چیز جس کی آج کے ہندوستان میں ضرورت ہے، وہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں بھائی چارہ ہے ۔ دونوں محبت کے ساتھ مل جل کر رہیں ۔ اسی میں دونوں کی ترقی اور بھلائی ہے۔ مسلمان اگر گائے کو دے کر ہندوؤں کے دل کو پالیں تو میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page