آغازِ کلام
Urdu book, p. 128
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھتا ہوں کہ انھوں نے بہت چھوٹی چیز دے کر بہت بڑی چیز پائی۔ ایک صاحب نے کہا کہ آپ آیات اللہ خمینی (ایران) اور جنرل ضیاء الحق (پاکستان) پر تنقید کرتے ہیں۔ مگر آپ شاہ ایران اور بھٹو پر تنقید نہیں کرتے۔ حالانکہ اگر آیات اللہ خمینی سے اور ضیاء الحق سے غلطیاں ہوئی ہیں تو شاہ ایران اور بھٹو نے بھی بہت سی برائیاں کی ہیں۔ میں نے کہا کہ شاہ ایران اور بھٹو نے جو کچھ کیا، سیکولرزم کے نام پر کیا۔ اس لئے ان کے عمل سے یا تو سیکولرزم بدنام ہو گیا یا وہ خود ذاتی طور پر بدنام ہوں گے۔ مگر خمینی اور ضیاء الحق نے جو کچھ کیا، اسلام کے نام پر کیا۔ اس لئے ان کے عمل سے اسلام بدنام ہوتا ہے۔ میں اسلام کو بدنامی سے بچانے کے لئے ان حضرات کے اعمال کا تجزیہ کرتا ہوں اور یہ بتاتا ہوں کہ ان لوگوں نے جو کچھ کیا اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہ تھا۔ یہ ان کی ذاتی سیاست تھی نہ کہ فی الواقع اسلام۔ ۲۲ جولائی ۱۹۸۹ آج میرے لڑکے ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں کا دہلی میں ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ ٹالکٹائے مارگ پر گاڑی سے دب جانے کی وجہ سے ان کے دائیں پاؤں کی ہڈی گھٹنے اور کولہے کے درمیان ٹوٹ گئی۔ بڑی مشکل سے کسی نے ولنگڈن اسپتال پہنچایا کیوں کہ کوئی لے جانے کے لئے تیار نہ تھا۔ خبر ملتے ہی میں اور ثانی اسٹنین اسپتال پہنچے۔ وہاں یہ منظر تھا کہ ظفر الاسلام زخمی حالت میں اسٹریچر پر لیٹے ہیں اور کوئی پرسان حال نہیں۔ دو گھنٹے اس حالت میں گزر گئے کہ وہ کراہ رہے ہیں اور کوئی طبی کارروائی نہیں ہوئی۔ عجیب بے بسی کا عالم تھا جو لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ اطہر صدیقی صاحب کو ٹیلیفون کیا گیا جو بیجتہ منسٹر کے پی اے ہیں۔ انھوں نے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ٹیلیفون کرایا۔ اس کے بعد میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر بہاری کی ذاتی ہدایت پر کارروائی شروع ہوئی۔ اگلے دن ہمیشہ منسٹر رفیق عالم دیکھنے کے لئے آئے اور ذمہ داروں کو ہدایات دیں۔ اس کے بعد فضا بالکل بدل گئی۔ اب وی آئی پی والے انداز پر علاج شروع ہو گیا۔ ظفر الاسلام نے بتایا کہ اس سے پہلے جب وہ لندن میں تھے، وہاں بھی ایک بار ایکسیڈنٹ ہو گیا۔ دائیں ہاتھ کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ ان کی بیوی ساتھ تھیں، انھوں نے فورا پولیس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader