آغازِ کلام
Urdu book, p. 129
By Maulana Wahiduddin Khan
ٹیلی فون کیا۔ اس کے بعد منٹوں کے اندر ایمبولنس آگئی۔ اس نے ان کو اسپتال پہنچایا۔ کسی سفارش کے بغیر فورا باقاعدہ علاج شروع ہوگیا۔ ہندوستان اور مغرب کے اسی فرق کا یہ نتیجہ ہے کہ ہمارے تمام بہترین دماغ ہندوستان سے بھاگ کر مغرب کے شہروں میں آباد ہورہے ہیں۔ آزاد ی نے اس کے سوا کوئی فرق نہیں کیا کہ ہماری سیاسی محکومی دوبارہ اقتصادی محکومی میں تبدیل ہوگئی۔ ۲۳ جولائی ۱۹۸۹ انگریزی ہفت روزہ سنڈے (۲۳ جولائی ۱۹۸۹) میں خوشونت سنگھ نے ڈاکٹر پی سی رے (۱۹۴۴-۱۸۶۱) کی یاد میں ایک صفحہ لکھا ہے۔ ڈاکٹر پی سی رے بہت قابل آدمی تھے اور کئی زبانیں جانتے تھے۔ انھوں نے اسلام کا بھی گہرا مطالعہ کیا تھا۔ ڈاکٹر رے ۱۹۲۳ میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں بلائے گئے۔ وہاں انھوں نے کانووکیشن ایڈریس دیا۔ اس ایڈریس میں انھوں نے اسلام کی سادگی اور اس کی مساوات کا بلند الفاظ میں اعتراف کیا۔ انھوں نے کہا کہ اونچے مینار سے مؤذن کی پکار مسلمانوں کو نماز کے لئے بلاتی ہے۔ امیر کو بھی اور فقیر کو بھی، بادشاہ کو بھی اور بہشتی کو بھی۔ لوگ مسجد میں جمع ہوتے ہیں اور کندھے سے کندھا ملا کر خدا کے سامنے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ اسلام میں انسان اور انسان کے درمیان کوئی امتیاز نہیں۔ The call of the muezzin sounds from the top of the minaret summoning the faithful to prayer, the ameer and the fakeer, the badshah and the bhishti, flock together and squat shoulder to shoulder in the adoration of the Almighty. Islam knows no soul-killing distinctions between man and man. ڈاکٹر رے نے کہا کہ مغرب میں بظاہر ڈیموکریسی کا نعرہ ہے مگر نسل اور رنگ اور دولت کی بنیاد پر امتیاز نے مغرب کی ڈیموکریسی کو بے معنی بنا دیا ہے۔ ہندوؤں میں کاسٹ سسٹم ایسی برائی ہے جس کے بعد حقیقی معنوں میں برابری کا سماج قائم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس کے مقابلہ میں اسلام میں ریل ڈیموکریسی ہے اور اسی کے ساتھ مساوات بھی۔ نماز میں بے پناہ کشش ہے۔ اگر مسلمانوں اور غیرمسلموں کے درمیان نفرت کی فضا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader