آغازِ کلام
Urdu book, p. 130
By Maulana Wahiduddin Khan
نہ ہو تو یہ نماز بندات خود تبدیلی کا ذریعہ بن جائے۔ اس دنیا میں کامیاب وہ ہے جس کی ناکامی کو خدا کامیابی میں تبدیل کردے۔ جس کی سیڈ کو خدا اپنی نصرت خاص سے حسنہ کی صورت عطا فرمائے۔ جس آدمی کو اللہ تعالیٰ کی یہ نصرت نہ ملے اس کی کامیابی بھی ناکامی ہے اور اس کا حسنہ بھی سیہ ہے۔ کم ازکم آج کی تاریخ تک، یہ آخری بات ہے جس کو میں نے اپنے علم اور تجربہ سے جانا۔ ۲۵ جولائی ۱۹۸۹ عابد سعید خاں صاحب ایم اے ایک بزرگ کو لے کر آئے۔ انھوں نے بتایا کہ یہ ہمارے خالو ہیں جو ۱۹۷۲ کے بعد پاکستان چلے گئے۔ گفت گو کے دوران میں نے خالو صاحب سے کہا کہ عابد سعید خاں صاحب اگر پاکستان چلے گئے ہوتے تو وہاں بہت ترقی کر سکتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہاں مادی اعتبار سے ضرور ترقی کرتے مگر اس کے بعد دو آدمی موٹر سائیکل پر سوار ہو کر آتے اور گولی مار کر ان کا خاتمہ کر دیتے اور جو کچھ انھوں نے کمایا تھا سب اٹھا کر لے جاتے۔ پاکستان شاید امریکہ کے بعد دوسرا ملک ہے جہاں خطرناک ہتھیار کھلے عام بازار سے خریدے جاسکتے ہیں۔ اور کسی لائسنس کے بغیر اپنے پاس رکھے جاسکتے ہیں۔ انگریزی ہفتہ وار انڈیا ٹوڈے (۳۱ جولائی ۱۹۸۹) نے ۴ صفحہ کی ایک رپورٹ چھاپی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ آدم خیل میں ہتھیاروں کے بڑے بڑے بازار ہیں جہاں جوتے اور کپڑے کی طرح ہر قسم کے خطرناک ہتھیار بکتے ہیں۔ صفحہ ۷۰ - ۷۱ پر ایک بہت بڑی تصویر ہے۔ اس میں ایک دکان کو دکھایا گیا ہے جورائفل، پستول، ہوائی جہاز کو مارنے والے گن وغیرہ سے بھری ہوئی ہے۔ اس کے آگے ایک آدمی مصلا بچھا کر نماز پڑھ رہا ہے۔ تصویر میں وہ حالت سجدہ میں نظر آتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف پاکستان میں ہر آدمی کے پاس کھلے ہتھیار ہیں میں بلکہ اطراف کے ملکوں میں تشدد کی تحریکوں کو یہاں سے بہت بڑے پیمانہ پر اس قسم کے خطرناک ہتھیار مل رہے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، مگر وہ روس اور چین کے ہتھیاروں کی مارکیٹ ہو کر رہ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader