Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 131

By Maulana Wahiduddin Khan

فیروز آباد کے ایک مسلمان آئے۔ انھوں نے شکایت کی کہ ہندوستان کی حکومت کی پالیسی یہ ہے کہ مسلمانوں کو پیچھے رکھا جائے۔ ایسی حالت میں وہ کیسے ترقی کر سکتے ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ فیروز آباد میں چوڑیوں کی تجارت پہلے مکمل طور پر مسلمانوں کے ہاتھ میں تھی۔ اب وہ مکمل طور پر ہندوؤں کے ہاتھ میں جاتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی کہ مسلمان TANK FURNACES کے اصول پر اپنے کارخانے بنائے ہوئے تھے۔ ہندو تعلیم یافتہ تھے، انھوں نے جدید تکنیک استعمال کی۔ اور انھوں نے POT FURNACES کے اصول پر کارخانے قائم کئے ۔ ہمارے مقابلے میں ان کا مال اچھا بھی معلوم ہوتا ہے اور سستا بھی۔ چنانچہ ان کا مقابلہ ہمارے لئے نا ممکن ہو گیا ہے۔ تمام مسلمان چوڑی والے آجکل سخت گھاٹے میں جا رہے ہیں۔ انھوں نے مزید بتایا کہ ہماری بھٹی تقريباً ۱۰ لاکھ روپیہ میں تیار ہو جاتی ہے۔ مگر ان کی جدید طرز کی بھٹی کو بنانے میں تقریباً ایک کروڑ روپیہ خرچ آتا ہے۔ مسلمان اس کو افورڈ نہیں کر سکتا۔ میں نے کہا کہ آپ لوگ کو آپریٹو بنائیے۔ انھوں نے کہا کہ کچھ مسلمانوں نے کو آپریٹو بنا لیا۔ مگر وہ آپس میں کھاپی کر ختم ہو گیا۔ میں نے کہا کہ آپ کا ذاتی تجربہ یہ بتا رہا ہے کہ ہندو اپنی تعلیم اور اپنی منصوبہ بندی کی وجہ سے آپ سے آگے بڑھ گیا ہے اور اپنی تقریر میں آپ یہ فرما رہے ہیں کہ حکومت ہند کی مخالفانہ پالیسی نے مسلمانوں کو پیچھے دھکیل رکھا ہے۔ ۲۷ جولائی ۱۹۸۹ ٹائیمس آف انڈیا (۲ جولائی ۱۹۸۹) صفحہ ۶ پر ایک نوٹ ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ کے شمال اور شمال مشرقی حصہ میں تقریباً دس سیٹیں ایسی ہیں جہاں مسلم آبادی کافی ہے اور ان کا ووٹ انتخابی نتیجہ کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس علاقہ سے جو لوگ برطانی پارلیمنٹ کے لئے منتخب ہوتے ہیں، وہ اس بات کی وکالت کر رہے ہیں کہ برطانی مسلمانوں کے جذبات (Muslim sentiments) کا لحاظ کرتے ہوئے سلمان رشدی کی کتاب سینگ ورسنزیہ پابندی لگادی جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page