Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 132

By Maulana Wahiduddin Khan

گاہ پر بھینٹ چڑھا دیا جائے؟ مسٹر کنوک نے اپنے اعتبار سے صحیح بات کہی ہے۔ میرے نزدیک اس معاملہ میں مسلمانوں کی جذباتیت انہیں فائدہ تو کچھ نہیں دے گی۔ البتہ انہیں نقصان پہنچانے کا سبب ضرور بنے گی۔ ۲۸ جولائی ۱۹۸۹ آج کل شدت سے مجھ پر یہ احساس طاری رہتا ہے کہ میری موت شاید قریب آگئی۔ اسی کے ساتھ یہ خیال آتا ہے کہ میرے بعد الرسالہ جاری رہنے کی کیا صورت ہوگی۔ اور یہ مشن آئندہ کس طرح قائم رہے گا، جب کہ ذہن سازی کی موجودہ مہم کا ابھی بہت دن تک جاری رہنا انتہائی ضروری ہے۔ جہاں تک الرسالہ جیسے اوریجنل مضامین کا تعلق ہے، اس کو لکھنے والا فی الحال مجھے کوئی نظر نہیں آتا۔ نہ حلقہ الرسالہ کے اندر اور نہ اس حلقہ کے باہر۔ اس قسم کے مضامین لکھنے کے لئے آدمی کو موت اور زندگی کے درمیان کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ مگر اس وقت مجھے سارے عالم اسلام میں کوئی بھی شخص ایسا نظر نہیں آتا جس نے اپنے آپ کو حقیقی معنوں میں موت اور زندگی کے درمیان کھڑا کر رکھا ہو۔ تاہم ایک اور کام ہے جس کو کوئی اچھا پڑھا لکھا آدمی اگر محنت کرے تو اس کو انجام دے سکتا ہے، حلقہ الرسالہ میں ایسے افراد موجود ہیں۔ وہ کام ہے چھوٹی ہوئی تحریروں کا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page