آغازِ کلام
Urdu book, p. 133
By Maulana Wahiduddin Khan
اس وقت میرے پاس کثیر تعداد میں ایسے مضامین موجود ہیں جو غیر مطبوعہ ہیں۔ اس کے ساتھ ڈائری اور خطوط کے جوابات وغیرہ بھی بڑی مقدار میں موجود ہیں۔ ان کو ایڈٹ کرکے انشاءاللہ تقریباً دس سال تک الرسالہ اسی طرح میری تحریروں کے ذریعہ جاری رکھا جاسکتا ہے۔ دوسرا کام میرے مضامین اور کتابوں کا ترجمہ ہے ، جو خود بہت بڑا کام ہے ، عربی اور انگریزی اور دوسری زبانوں میں تمام کتابوں اور تحریروں کا ترجمہ انتہائی ضروری ہے۔ اگر ترجمہ کا یہ کام باقاعدہ صورت میں شروع ہو جائے تو یہ مشن از سر نُو نئی طاقت کے ساتھ عالمی سطح پر جاری ہو جائے گا۔ دوسروں کی تحریریں اس مشن میں اس وقت تک شامل نہ کی جائیں جب تک یہ مشن پوری طرح قائم (establish) نہ ہو جائے۔ ۲۹ جولائی ۱۹۸۹ ایک مسلمان (محفوظ الرحمن صاحب) سے ملاقات ہوئی۔ وہ پریس اور بیگ بنانے کا کام کرتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ دو سال پہلے ان کا کام بہت خراب ہو گیا تھا۔ یہاں تک کہ انہوں نے ارادہ کیا کہ اس کام کو چھوڑ کر دوسرا کام شروع کر دیں۔ اسی زمانہ میں انہوں نے الرسالہ کا ایک مضمون پڑھا۔ اس مضمون میں انہیں یہ انسپریشن ملا کہ کام بدلنے کے بجائے اسی کام میں نیا پن پیدا کرنا چاہئے۔ اب انہوں نے "دماغی محنت" شروع کی۔ ان کی سمجھ میں کچھ ڈیزائنیں آئیں ۔ اس کے مطابق وہ کچھ نئے قسم کے پریس اور نئے قسم کے بیگ بنا کر بازار میں لے آئے۔ ان کا کام مزید کامیابی کے ساتھ دوبارہ چل پڑا۔ انہوں نے بتایا کہ جس زمانہ میں کام چھوڑنے کا ارادہ تھا، میں نے سوچا کہ میں ایک اردو ہفت روزہ نکالوں۔ ہندی میں ایک ہفت روزہ "جرائم کی کہانیاں" کے نام سے نکلتا ہے جو بے حد کامیاب ہے۔ میں نے سوچا کہ اردو میں اس قسم کا کوئی پرچہ نہیں ہے اس لئے اگر اسی ڈھنگ پر اردو میں ایک پرچہ نکالا جائے تو وہ کافی کامیاب ہو سکتا ہے۔ مگر بعض اسباب کی بناء پر وہ اس کو شروع نہ کر سکے۔ انہوں نے بتایا کہ میرے ایک ساتھی نے مجھ سے یہ آئیڈیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader