Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 134

By Maulana Wahiduddin Khan

زبردست کامیابی حاصل کی کہ آج اس نے نئی دہلی میں ایک کوٹھی خرید لی ہے۔ اس واقعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ میں صحافت اور قیادت کا میدان کتنی بری شکل اختیار کر چکا ہے۔ وہی محفوظ صاحب پلاسٹک کاروبار کے میدان میں ترقی کے لئے یہ سوچتے ہیں کہ نئے قسم کا بیگ بنائیں۔ مگر وہی محفوظ صاحب صحافت کے میدان میں آنا چاہتے ہیں تو ان کا ذہن انہیں یہ سکھاتا ہے کہ جرائم کی کہانیاں چھاپو، کیوں کہ اس طرح تمہارا پرچہ نہ زیادہ بکے گا۔ یہی وہ صورتحال ہے جس نے موجودہ زمانہ میں صحافت اور قیادت کو مجرد استعمال (Sheer exploitation) بنا کر رکھ دیا ہے۔ ۳۰ جولائی ۱۹۸۹ ہمارے یہاں پاکستان کے دیوار دور روزنامے آتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ (مشاق (لاہور)) اور نوائے وقت (لاہور)، یہ اخبارات ہندوستان کے بارہ میں نفرت سے بھرے ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں وہ گویا نفرت کا کارخانہ ہیں۔ حتیٰ کہ سادہ قسم کے واقعات کو بھی اس طرح چھاپا جاتا ہے کہ اس سے ہندوستان کے بارہ میں حقارت اور نفرت کا جذبہ پیدا ہو۔ بارش اور سیلاب خدا کی طرف سے آتے ہیں، اور ہر ملک میں آتے ہیں۔ امسال کراچی میں بارش ہوئی تو نوائے وقت ۲۶ جولائی ۱۹۸۹ء میں اُس کی خبر اس سرخی کے ساتھ چھپی: طوفانی بارش نے کراچی میں تباہی مچادی اسی قسم کی بارش کا واقعہ ہندوستان میں ہوا تو اس کی رپورٹنگ کے الفاظ بدل گئے۔ مثلاً (وفاق ۲۰ جولائی ۱۹۸۹) کے صفحہ اول پر ہندوستان میں ہونے والی بارش کی جو خبر چھپی ہے، اس کی سرخی یہ ہے: بھارت میں سیلاب نے تباہی مچادی بارش کا واقعہ مقامی واقعہ تھا۔ پاکستان میں اس کے مطابق وہ مقامی واقعہ کے طور پر چھپا۔ مگر ہندوستان میں اسی قسم کا مقامی واقعہ ملک گیر واقعہ بن گیا۔ جب کہ ہندوستان کا رقبہ پاکستان کے مقابلہ میں ۸ گنا زیادہ ہے۔ اور فطری نظام کے تحت یہ ناممکن ہے کہ سارا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page