Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 135

By Maulana Wahiduddin Khan

ہندوستان بیک وقت سیلاب سے تباہ ہو جائے۔ موجودہ زمانہ کی ایک صحافتی اصطلاح ہے جس کو media projection کہا جاتا ہے۔ یعنی اخبارات کے صفحات میں اپنے آپ کو نمایاں کرنا۔ اس مقصد کے لئے منسٹر اور بڑے سیاسی لیڈر رقمیں دے کر جرنلسٹوں کو خریدتے ہیں۔ ان کا کام یہ ہوتا ہے کہ وہ روزانہ اخبارات کا مطالعہ کرکے اپنے مؤکلوں کو بتائیں کہ آج وہ کونسا بیان یا پریس سٹیٹمنٹ جاری کریں جو کل کے اخبار میں نمایاں طور پر چھپے، اور اس طرح وہ برابر نیوز میں رہیں۔ اس طرح ایک لیڈر اخبار کے صفحات میں ہیرو بن کر نمایاں ہوتا ہے۔ حالانکہ حقیقت میں وہ زیر و ہوتا ہے۔ یہی آج تمام لیڈروں کا حال ہے، خواہ وہ مسلم لیڈر ہوں یا غیر مسلم لیڈر، خواہ وہ داڑھی والے ہوں یا بے داڑھی والے۔ اس معاملہ میں ایک اور دوسرے کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ یکم اگست ۱۹۸۹ ۳۱ جولائی کو میں ماؤنٹ آبرو (راجستھان) میں تھا۔ وہاں برہم کماری مشن کا سنٹر ہے۔ بہت وسیع رقبہ میں اس کی عمارتیں پھیلی ہوئی ہیں۔ روزانہ تقریباً ایک ہزار آدمی وہاں دیکھنے کے لئے آتے ہیں۔ ہم نے ایک جدید ترین طرز کا ہال دیکھا۔ اس میں لکچر ہو رہا تھا جس کو دو ہزار سے زیادہ طلبہ سن رہے تھے۔ ہر چیز نہایت شاندار اور اعلیٰ معیار کی تھی۔ میرے ساتھ چار اور سلمان تھے۔ مشن کا ایک آدمی ہم کو اس کی تمام چیزیں دکھا رہا تھا۔ اس دوران ہمارے ساتھیوں میں سے ایک شخص نے کہا کہ یہاں پہاڑ کے اوپر آپ نے اتنا بڑا کام پھیلا رکھا ہے، اس کے لئے آپ کو پیسہ کہاں سے ملتا ہے: یہ سن کر مجھ کو اتنی شرم آئی کہ میں نے سر جھکالیا۔ دیر تک میرے منہ سے کوئی آواز نہیں نکلی۔ میرے نزدیک یہ نہایت سفلی اور غیر شریفانہ سوال تھا۔ میری روح آخری حد تک تڑپ اٹھی۔ میں نے سوچا کہ میں نے بہت بڑی غلطی کی کہ ایسے سفلی آدمی کو اپنے وفد میں شامل کر کے یہاں لے آیا۔ میں نے کہا ۔ مسلمان بولتا تو کیا جانیں گے، وہ چپ رہنا بھی نہیں جانتے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page