آغازِ کلام
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
قدسی کا ایک قطعہ ہے، اس کا آخری شعر یہ ہے: روز قیامت ہر کسے آید بدستش نامۂ من نیز حاضر می شوم تصویر جانان در بغل اس شعر کے دوسرے مصرعہ میں شاہ عبدالعزیز دہلوی (۱۸۲۳-۱۷۴۲) نے ایک لفظی تبدیلی کی تھی۔ اور وہ اُس کو اس طرح پڑھا کرتے تھے: من نیز حاضر می شوم تفسیر قرآن در بغل موجودہ زمانہ کے اکثر مصنفین نے اس قسم کی باتیں کہی ہیں کہ قیامت کے دن وہ اپنی فلاں کتاب لے کر خدا کے یہاں پہنچیں گے۔ میرے نزدیک اس قسم کی باتیں بالکل طفلانہ ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان لوگوں کو خدا کی عظمت کا حقیقی ادراک نہ ہوسکا، ورنہ وہ ہرگز ایسی بات نہ کہتے۔ ۳ اگست ۱۹۸۹ مسٹر آرن شرمار (انگلش جرنلسٹ) نے بتایا کہ ۱۹۴۹ میں جب کہ وہ دہلی کے ایک اسکول میں پڑھتے تھے۔ مہارشی یوگی آئے اور رنہمیت ہوٹل (نئی دہلی) میں ٹھہرے۔ انھوں نے اخباروں میں اعلان کیا کہ لوگ میرے پاس آئیں۔ میں ان کو ایسا منتر بتاؤں گا جس سے ان کے اندر تخلیقی ذہانت (Creative intelligence) پیدا ہوگی۔ اسکول کی دو لڑکیاں ان کے یہاں گئیں۔ انھوں نے ہر ایک سے کہا کہ میں اپنا منتر تمہارے کان میں بتاؤں گا۔ تم خود اس کا جواب کرنا۔ مگر کسی سے اس کا ذکر نہ کرنا۔ ایک لڑکی اپنا کان ان کے پاس لے گئی۔ اس کو انھوں نے چپکے سے منتر بتا دیا۔ پھر دوسری لڑکی اپنا کان لے گئی۔ اس کو بھی انھوں نے چپکے سے منتر بتا دیا۔ اس کے بعد دونوں نے یہ کیا کہ انھوں نے کسی کو وہ منتر نہیں بتایا۔ بس خود اس کا جواب کرتی رہیں۔ کچھ دن بعد آرن شرمار نے ایک لڑکی کو کوہسن کر راضی کیا کہ وہ انھیں مذکورہ منتر بتائے۔ اس نے بتایا کہ "اوم آ نگ"۔ پھر انھوں نے دوسری لڑکی سے ملاقات کی۔ اس سے کہا کہ میں نے تمہاری دوسری ساتھی سے منتر معلوم کر لیا ہے، اور وہ اوم آ نگ ہے۔ لڑکی نے حیرت کے ساتھ بتایا کہ ٹھیک یہی منتر انھوں نے مجھ کو بھی سکھایا تھا۔ آرن شرما صاحب نے مزید بتایا کہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader