آغازِ کلام
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
اوم کا مطلب شانتی (Peace) ہے، مگر آنگ کا کوئی مطلب نہیں۔ محمد ابراہیم صاحب راینچوری (۲۱ سال) سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ایک واقعہ بتایا جو ان کے ساتھ ۱۹ جولائی ۱۹۸۹ کو پیش آیا تھا۔ وہ تبلیغی جماعت کے ساتھ بسو اکلیان (ضلع بیڈ) گئے۔ وہاں وہ بازار میں گشت کے لئے نکلے۔ وہ مسلمانوں کی دکانوں پر جا کر انہیں مسجد میں آنے کے لئے کہہ رہے تھے۔ وہاں جامع مسجد کے پاس ایک ہندو کی دکان ہے جس کا نام کشن ہے۔ وہ سبزی وغیرہ بیچتا ہے۔ یہ لوگ اس کے سامنے سے کچھ بات کئے بغیر گزر گئے۔ اس کے بعد وہ ہندو دکانادار اٹھ کر ان کے پیچھے آیا۔ اس نے پوچھا کہ آپ لوگ کہاں سے آئے ہیں۔ آپ کا مقصد کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایمان و یقین کی باتیں کرتے ہیں۔ ہندو دکاندار نے کہا: تم لوگ جو مسلمانوں کو جوڑتے ہیں۔ اور ایمان کی بات کرتے ہیں، اگر آپس ہی میں بانٹ کر کھاتے ہیں تو وہ ہم تک کیسے پہنچے گا؟ ۵ اگست ۱۹۸۹ موجودہ زمانہ کے مسلمان جو ہنگامہ آرائیاں کر رہے ہیں، اگر یہی خدا کا مطلوب و محبوب عمل ہو تو خدا کو نعوذ باللہ سلمیٰ ماننا پڑے گا۔ اور ایسا ماننا کسی طرح ممکن نہیں۔ خدا کا اعلیٰ ترین نفیس ذوق جو اس کی تخلیقات فطرت میں ظاہر ہوا ہے، وہ اس قسم کے کسی بھی خیال کو بالکل مردود قرار دیتا ہے۔ موجودہ زمانہ کے مسلمان دین کے نام پر جو بے معنی سرگرمیاں جاری کئے ہوئے ہیں، ان کو سوچ کر میرے دل میں یہ خیال آیا اور بدن کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ ۶ اگست ۱۹۸۹ ایک صاحب نے کہا کہ الرسالہ میں آپ اپنے جو سفر نامے چھاپتے ہیں، ان میں خود ستائی ہوتی ہے۔ میں نے کہا کہ جو لوگ اس قسم کا تبصرہ کرتے ہیں، وہ دو چیزوں کا فرق نہیں سمجھتے۔ ایک ہے خودستائی، دوسرا ہے بیانِ واقعہ۔ الرسالہ کے سفر نامہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بیانِ واقعہ ہے نہ کہ خود ستائی۔ میں نے کہا کہ آپ مختلف لوگوں کے سفر ناموں کو دیکھئے۔ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بھی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader