آغازِ کلام
Urdu book, p. 138
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تمام انبیاء جمع ہوئے اور میں نے ان کی امامت کی۔ میں اوپر گیا تو آسمان کا دروازہ میرے لئے کھولا گیا۔ ایک شخص کہے گا کہ یہ خود ستائی ہے۔ مگر نہیں، یہ بیان واقعہ ہے۔ اسی طرح امام شافعی کا سفر نامہ ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ میں فلاں شیخ کی مجلس میں گیا۔ میں لوگوں کے پیچھے بیٹھ گیا۔ اس کے بعد میں نے شیخ کے ایک سوال کا جواب دیا۔ شیخ کو میرا جواب پسند آگیا۔ اس نے مجھ کو بلا کر اپنے پاس بٹھایا۔ ابن بطوطہ نے اپنے سفر نامے میں لکھا ہے کہ فلاں ملک کا حاکم مجھ سے خوش ہو گیا اور میرے لئے ایک بڑے عہدے کی پیش کش کی۔ مولا نا علی میاں اپنے سفر نامے میں لکھتے ہیں کہ فلاں عرب ملک میں میں نے تقریر کی۔ اس کے بعد ایک شیخ نے کہا کہ آپ نے عربوں کو ان کا بھولا ہوا سبق یاد دلا دیا۔ وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کو آپ خود ستائی کہیں گے۔ مگر دراصل وہ بیان واقعہ ہیں۔ اور کوئی بھی سفر نامہ اس قسم کے واقعات کے تذکرہ سے خالی نہیں ہو سکتا۔ آپ کسی بھی مسلم یا غیر مسلم کا سفر نامہ نہیں بتا سکتے جس میں اس قسم کی باتیں درج نہ ہوں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ سفر نامہ کے لازمی اجزاء ہیں۔ ان کے بغیر کوئی سفر نامہ نہیں لکھا جا سکتا۔ اگست ۱۹۸۹ء سید اقبال انظر ایڈوکیٹ (بہار شریف) سے ملاقات ہوئی۔ ان کی عمر ۷۰ سال ہے۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ ۱۹۴۶ء کے الیکشن میں مسلمانوں نے جو نعرے لگائے تھے، ان میں سے ایک نعرہ اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ اس کے الفاظ یہ تھے : لال بکس کو توڑ دو ہرے بکس میں ووٹ دو اس زمانہ میں کانگریس کا بیلٹ بکس لال رنگ کا ہوتا تھا، اور مسلم لیگ کا بیلٹ بکس ہرے رنگ کا۔ اسی کے لحاظ سے یہ نعرے بنائے گئے تھے۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے جھوٹے لیڈروں نے مسلمانوں کو کیسی احمقانہ جذباتیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ یہ احمقانہ جذباتیت بد قسمتی سے آج بھی مسلمانوں میں جاری ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader