Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 139

By Maulana Wahiduddin Khan

آج کے ٹائمس آف انڈیا میں چرٹن کانس (Churton Collins) کا ایک قول نقل کیا ہے۔ اس نے کہا کہ زندگی میں کامیابی کا راز صرف وہ لوگ جانتے ہیں جو اپنی زندگی میں کامیاب نہ ہوسکے : The secret of success in life is known only to those who have not succeeded. یہ بات بڑی حد تک صحیح ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی لفظ سے نہیں سیکھتا، وہ صرف تجربہ سے سیکھتا ہے۔ تمام حکمت کی باتیں کہنے والے کہہ چکے ہیں۔ مگر آدمی صرف ان کو پڑھ کر یا سن کر انھیں نہیں پکڑتا۔ وہ صرف اس وقت ہوش میں آتا ہے جب کہ تجربات کی آہنی منطق اس کو ماننے پر مجبور کر دے۔ ۹ اگست ۱۹۸۹ میری کتاب الاسلام کا عربی ترجمہ ایک مصری اردو داں دکتور سمیر عبد الحمید ابراہیم نے کیا ہے جو ۲ ۱۹۸ میں قاہرہ سے چھپی ہے۔ یہ عربی ترجمہ میرے سامنے اس وقت آیا جبکہ وہ چھپ چکا تھا۔ معلوم ہو کہ اس میں ترجمہ کی کافی غلطیاں ہیں۔ کتاب میں عبادت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے جو باتیں کہی گئی ہیں، ان میں سے ایک بات وہ ہے جو ان الفاظ میں آئی ہے کہ اس میں آدمی جس سے چھٹنے کا خطرہ محسوس کرتا ہے اسی سے پلنے کی امید بھی رکھتا ہے (صفحہ ۷)، اس فقرہ کا ترجمہ دکتور سمیر نے ان الفاظ میں کیا ہے: فهو يشعر بخطر هناك في مصفاة الماء الا انه ليضع اصله في الحصول على الماء في هذه المصفاة (صفحه ۱۴) یہ عربی ترجمہ بالکل عجیب ہے۔ نحوی غلطی نہ ہوتے ہوئے بھی اس کا مطلب سمجھنا مشکل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصری مترجم نے پانے کو پانی سمجھ لیا اور اس کے مطابق ترجمہ کر ڈالا۔ ترجمہ کے لئے یہی کافی نہیں ہے کہ آدمی ایک زبان اور دوسری زبان کے ہم معنی الفاظ کو جانتا ہو۔ اسی طرح مترجم کو کتاب کے موضوع سے واقف اور آشنا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page