آغازِ کلام
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
(Acquaint) بھی ہونا چاہئے۔ ورنہ وہ یہی کرے گا کہ وہ 'پانے کا ترجمہ پانی کر دے گا اور سارا مضمون خبط ہو کر رہ جائے گا۔ ۸ اگست کو راجیہ سبھا (نئی دہلی) کا اجلاس ہو رہا تھا۔ وزیراعظم راجیو گاندھی مشتعل ہو گئے۔ انھوں نے ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبروں کو (LIMPETS) کہہ دیا۔ لمپ گھونگھے کی قسم کا ایک کیڑا ہے جو چٹانوں سے پٹار رہتا ہے۔ یہ لفظ جب انسان کے لئے بولا جائے تو اس سے مراد ایسا شخص ہوتا ہے جو عہدہ اور منصب کو کسی طرح نہ چھوڑے (ٹائنس آف انڈیا ۹ اگست ۱۹۸۹) راجیو گاندھی نے وزیر اعظم کے عہدے پر پہنچنے کے بعد جو انداز اختیار کیا۔ اس کے بعد یہ لفظ سب سے زیادہ خود ان کے اوپر چسپاں ہوتا ہے۔ توپوں کے سودے میں ۶۰ کروڑ روپیہ سے زیادہ کمیشن لینا۔ کمپٹرولر اینڈ آڈیٹر جنرل (CAG) کی رپورٹ سے اس کی تصدیق، جولائی میں بیشتر اپوزیشن ممبروں کا استعفا، وغیرہ۔ ایسے واقعات ہیں جو کسی بھی جمہوری ملک میں وزیر اعظم کے استعفاد کے لئے کافی ہیں۔ مگر راجیو گاندھی صاحب خود جو فعل زیادہ بڑے پیمانے پر کر رہے ہیں، اسی کا الزام وہ دوسروں کو دے رہے ہیں۔ ٹھیک یہی حال موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کا ہے۔ یہ مسلمان لیڈر روزانہ دوسروں کے خلاف بیان دیتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ ان معاملات میں یہ مسلمان لیڈر خود سب سے بڑے مجرم ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے مسلم لیڈروں کے سامنے ابو بکر و عمر کا نمونہ نہیں ہے۔ ان کے سامنے غیر مسلم سیاسی لیڈروں کا نمونہ ہے جو ذاتی مفاد کے سوا کچھ اور جانتے ہی نہیں۔ ۱۱ اگست ۱۹۸۹ مہاتما گاندھی کا کہنا تھا کہ Truth is God یعنی سچائی خدا ہے۔ اس کے مقابلہ میں دوسرا نظریہ یہ ہے کہ خدا سچائی ہے: God is truth دونوں فقروں میں بظاہر صرف لفظی ترتیب کا فرق ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader