Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 142

By Maulana Wahiduddin Khan

لاجپت نگر (نئی دہلی) میں ایک ہندو فیملی رہتی ہے۔ اس خاندان کی ایک لڑکی کافی آزاد خیال تھی اور گھر سے باہر رہ کر اپنا ذاتی بزنس کر رہی تھی۔ اس نے اپنی ذاتی پسند سے ایک مسلمان سے شادی کرنا طے کیا ہے۔ لڑکی کا نام دمنی ہے اور لڑکے کا نام شکور حسین خاں۔ اس سلسلہ میں ایک بے حد سبق آموز بات معلوم ہوئی۔ وہ یہ کہ مس دمنی کے خاندان کے افراد نے اس انتخاب پر کوئی اعتراض نہیں کیا۔ اس کی ماں اور بہنوں نے مشترک طور پر یہ کہا کہ مسلمانوں کا کچھ دین دھرم اور ضمیر ہوتا ہے، اگر ہندوؤں کے یہاں تو کچھ بھی نہیں۔ ہندوؤں میں اب نہ دھرم رہ گیا ہے اور نہ ضمیر۔ ہمارے گھر میں ایک ہرجن عورت صفائی کا کام کرتی ہے۔ اس نے ہمارے گھر میں اپنے ذاتی تجربات بتاتے ہوئے کہا کہ کوٹھیوں میں جو ہندو رہتے ہیں ان میں سو میں سے ایک ہی دواچھے ہوتے ہیں باقی سب خراب ہیں۔ اس طرح کے واقعات برابر سامنے آ رہے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہندو سماج مسلسل بگاڑ کی طرف جا رہا ہے۔ دوسری طرف مسلمان کچھ اپنے دینی عقائد کی وجہ سے اور کچھ حالات کے دباؤ کی وجہ سے مسلسل سدھرتے جا رہے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بہت جلد وہ وقت قریب آ جائے گا جب ہندوؤں کی اخلاقی گراوٹ انھیں آخری زوال پر پہنچا دے گی، اور مسلمانوں کے حالات انھیں اخلاقی طور پر زیادہ بہتر بنا دیں گے۔ یہ گویا ایک نیا غلبہ ہے جو مسلمانوں کی موجودہ مغلوبیت کے کھنڈر سے ابھر رہا ہے۔ ۱۴ اگست ۱۹۸۹ کسی بات کو سمجھنے کے لئے سنجیدہ (Sincere) ہونا انتہائی ضروری ہے۔ بغیر سنجیدہ آدمی کسی بھی بات کو سمجھ نہیں سکتا، خواہ بظاہر وہ کتنی ہی واضح کیوں نہ ہو۔ اس کی ایک مثال آرگنائزر کو پڑھتے ہوئے سامنے آئی۔ یہ پرچہ فرقہ پرست عناصر کی طرف سے نکالا جاتا ہے۔ اس کا خاص دعویٰ ہمیشہ یہ ہوتا ہے کہ اس ملک میں ہندو مظلوم ہیں۔ کیوں کہ کانگریس ہندوؤں کی قیمت پر مسلمانوں کو خوش کرنے کی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہے۔ مذکورہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page