Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

کیسی عجیب بات ہے کہ جو شکایت مسلمانوں کو ہے، وہی شکایت موجودہ نظام کے خلاف خود ہندوؤں میں پائی جاتی ہے۔ آرسی زینر (R. C. Zaehner) ایک آکسفورڈ اسکالر ہیں۔ انھوں نے مختلف مذاہب کے بارے میں ایک کتاب لکھی ہے جو ۱۹۷۰ میں شائع ہوئی ہے۔ اس کتاب کا نام ہے— ہم آہنگ ناموافقت : Concordant Discord اس کتاب کے مباحث کا خلاصہ یہ ہے کہ جب ہم مختلف مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان میں بہت سے اختلافات نظر آتے ہیں۔ لیکن زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ بظاہر بے آہنگی (Disharmony) میں آہنگ (Harmony) موجود ہے۔ بہت سے علماء (مثلاً ڈاکٹر بھگوان داس) نے یہ کوشش کی ہے کہ وہ ثابت کریں کہ تمام مذاہب ظاہری اختلافات کے باوجود ایک ہیں۔ وہ اس طرح اہل مذاہب کے درمیان ٹکراؤ کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ مگر میں اس کو بے فائدہ سمجھتا ہوں ۔ اہل مذاہب کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی تدبیر یہ نہیں ہے کہ تمام مذاہب کو ایک ثابت کیا جائے۔ اس کی واحد کار گر تدبیر یہ ہے کہ اہل مذاہب کے اندر رواداری (Tolerance) کا مزاج پیدا کیا جائے ۔ یعنی اختلاف کو برداشت کرتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرنا اور اختلاف کا اظہار سنجیدہ علمی دائرہ میں کرنا، نہ کہ مناظرہ اور تصادم کے دائرہ میں۔ اس دنیا میں امن قائم کرنے کا راز اختلاف کو برداشت کرنا ہے نہ کہ اختلاف کو ختم کرنا۔ اس معاملہ میں دوسری کوئی صورت سرے سے ممکن ہی نہیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page