Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 144

By Maulana Wahiduddin Khan

کو پڑھ کر اور مسلم معاشرہ کے ماحول سے متاثر ہو کر ہم نے یہ سمجھ لیا تھا کہ اس ملک میں ہمارے لئے کام کرنے اور ترقی کرنے کے مواقع نہیں ہیں۔ اس کے بعد ان میں سے ایک شخص کو راہیں بند نہیں نامی پمفلٹ ملا۔ اس کو پڑھ کر اس کا ذہن بدل گیا۔ اس نے یہی پمفلٹ اپنے ساتھی کو پڑھنے کے لئے دیا۔ اس کا ذہن بھی اس کو پڑھنے کے بعد بالکل بدل گیا۔ اب یہ دونوں الرسالہ کے مستقل قاری بن چکے ہیں اور نے حوصلہ کے ساتھ زندگی کے میدان میں جد و جہد کر رہے ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس طرح ہزاروں نوجوان ہیں جن کو الرسالہ کی تحریک نے نئی زندگی دی ہے۔ ۷ اگست ۱۹۸۹ دو صاحبان ملاقات کے لئے۔ دونوں دار العلوم دیو بند کے فارغ التحصیل تھے۔ ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ قرآن ہمارے اندر یہ ذہن بنانا چاہتا ہے کہ ہم عصر میں تیسیر کو دیکھیں ۔ مگر موجودہ زمانہ میں ہمارے علماء اس کا ثبوت نہ دے سکے۔ میں نے کہا کہ ہمارے علماء فخر کے ساتھ کہتے ہیں کہ انگریزوں نے پروفیسر آرنلڈ کے ذریعہ کتاب پریچنگ آف اسلام (۱۸۹۶) لکھوائی تاکہ مسلمانوں کے عمل کا رخ سیاسی جہاد سے ہٹا کر دعوت و تبلیغ کی طرف موڑ دیں۔ مگر علماء اس وقت اس سے متاثر نہیں ہوئے۔ اسی طرح ۱۹۳۰ میں انگریزوں نے علماء کو یہ پیش کش کی کہ دہلی میں صفدر جنگ مقبرہ کا پورا علاقہ، جو کئی کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے، آپ لوگوں کو دے دیا جائے گا۔ یہاں آپ لوگ تعلیم و تبلیغ کا ادارہ قائم کریں اور سیاست سے الگ ہو جائیں۔ مگر علماء نے اس پیش کش کو حقیر سمجھ کر نقر اندار کر دیا اور بدستور انگریز کے خلاف سیاسی لڑائی میں مشغول رہے۔ میں نے کہا کہ اگر ان علماء نے قرآن و سنت کا گہرا مطالعہ کیا ہوتا تو وہ اس کو عین اسلام کے حق

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page