Urdu book · ڈائری

آغازِ کلام

Urdu book, p. 145

By Maulana Wahiduddin Khan

پیش آئی۔ قریش نے مسلمانوں سے دس سال کا نا جنگ معاہدہ کر کے سمجھا کہ ہم نے مسلمانوں سے ان کی تلواریں چھین لی۔ حالاں کہ اصل صورت حال یہ تھی کہ انھوں نے مسلمانوں سے تلواریں چھین کر زیادہ بڑی طاقت انھیں دے دی، اور وہ دعوت کے کھلے موقع تھے۔ چنانچہ دعوت کی تسخیری طاقت ظاہر ہوئی اور صرف دو سال کے اندر مکہ فتح ہو گیا۔ اسی طرح انگریز اگر چہ علما سے "تلوار" چھین رہے تھے ، مگر اس کے بدلے وہ انھیں ایٹم بم دے رہے تھے۔ وہ انھیں دعوت وتبلیغ کے کھلے موقع دے رہے تھے جو بلاشبہ ہر تلوار سے زیادہ تسخیری طاقت رکھنے والا ہے۔ علما کے ششیری جہاد نے تو اسلام اور مسلمانوں کو کچھ نہیں دیا۔ لیکن اگر وہ اس وقت دعوت کے میدان میں متحرک ہوجاتے تو آج اس ملک کی تاریخ بالکل دوسری ہوتی۔ ۸ اگست ۱۹۸۹ الرسالہ اپریل ۱۹۸۹ میں میرا ایک مضمون تعدد ازدواج" کے عنوان سے شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون دوبارہ قومی آواز از ۱۳ اگست ۱۹۸۹ء میں نقل ہوا۔ اس کو پڑھ کر ڈاکٹر مسعود علی، کالا پار، مظفر نگر کا ایک خط قومی آواز ۸ اگست ۱۹۸۹ میں چھپا ہے۔ اس خط میں موصوف لکھتے ہیں: " اس سے قبل اسی موضوع پر سہارن پور کے ڈاکٹر جاوید جمیل کا مضمون قومی آواز ۲۴ دسمبر ۱۹۸۸ میں شائع ہوا تھا۔ مولانا وحید الدین خاں کا مضمون اسی مضمون پر مبنی نظر آتا ہے۔ کچھ مقامات پر تو تقریباً وہی الفاظ نقل کئے گئے ہیں جو ڈاکٹر جاوید جمیل کے مضمون میں تھے۔ مثال کے طور پر مولانا موصوف لکھتے ہیں: "چنانچہ جنگ کے بعد مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کی تعداد بہت زیادہ ہوگئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان ملکوں میں جنسی بے راہ روی عام ہوگئی یہاں تک کہ بہت سی بے شوہر یا غیر شادی شدہ عورتوں کے گھروں کے سامنے اس قسم کے بورڈ لکھے ہوئے نظر آنے لگے کہ رات گزارنے کے لئے ایک مہمان چاہیے "۔ اس دیکھئے ڈاکٹر جاوید جمیل کے مضمون کے الفاظ "دوسری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page