آغازِ کلام
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
اصل یہ ہے کہ یہ بات میں نے سب سے پہلے ستمبر ۱۹۵۸ میں اپنے ایک مضمون میں کہی تھی۔ یہ مضمون "حقیقت کی تلاش" کے عنوان سے اسی وقت چھپ گیا تھا اور بار بار چھپتا رہا ہے۔ کوئی بھی شخص اس کو 'حقیقت کی تلاش' کے آخر میں دیکھ سکتا ہے۔ غالباً ڈاکٹر جاوید جمیل نے یہ بات میرے مضمون سے لی ہوگی۔ میں نے اس کو ڈاکٹر جمیل سے نہیں لیا۔ اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ میرا مضمون ان کے مضمون سے ۳۰ سال پہلے چھپ چکا ہے۔ ۱۹ اگست ۱۹۸۹ ڈاکٹر مزمل حسین صدیقی کیلی فورنیا کے ایک اسلامی سنٹر میں ڈائرکٹر ہیں۔ آج ہمارے مرکز میں ان کا لکچر تھا۔ لکچر کا عنوان تھا: اسلام امریکہ میں۔ اپنے لکچر میں انھوں نے بہت سی باتیں امریکہ کے بارے میں بتائیں۔ ایک بات یہ تھی کہ امریکہ کے جیل خانوں میں جو قیدی ہیں، اور جن میں زیادہ تعداد سیاہ فام لوگوں کی ہے، ان میں اسلام پھیل رہا ہے۔ کچھ مسلمان ان کو جیل میں پڑھنے کے لئے اسلامی کتابیں پہنچاتے ہیں اور ان کو پڑھ کر وہ مسلمان ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جیل کے حکام ان قیدیوں کے درمیان تبلیغ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو مجرم اسلام قبول کرتا ہے اس کی زندگی میں فوراً اصلاح آجاتی ہے۔ جیل کے ایک افسر نے کہا کہ اسلام زندگی کو بدلنے میں بہت زیادہ مؤثر ہوتا ہے : Islam is the most rehabilitating factor. اس نے کہا کہ جیل خانوں میں عیسائی مشیری کے لوگ بھی کام کرتے ہیں۔ مگر عیسائی ہونے کے بعد قیدی کے اندر کوئی خاص تبدیلی نہیں آتی۔ مگر جو قیدی اسلام قبول کر لیتا ہے اس کی عادیں بالکل بدل جاتی ہیں۔ وہ نیا انسان بن جاتا ہے ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کے عقائد انسان کی شخصیت کو بدلنے کے لئے نہایت طاقت ور محرک ہیں۔ جب کہ دوسرے مذاہب (تحریف کی بنا پر ) اپنی یہ طاقت کھو چکے ہیں۔ کلیم الرحمان صاحب ایم اے (پیدائش ۱۹۵۰) پٹنہ کے اورینٹل کالج میں استاد ہیں۔ انھوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader