آغازِ کلام
Urdu book, p. 147
By Maulana Wahiduddin Khan
(Abdulla) کے لئے اشتہار کا مضمون لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا نے کہا کہ میں تو سگریٹ نوشی کا مخالف ہوں، میں کیسے سگریٹ کا اشتہار لکھوں۔ کمپنی نے ایک بڑی رقم کی پیش کش کی، مگر برنارڈ شا تیار نہیں ہوا۔ آخر کمپنی نے کہا کہ اچھا، آپ کا جو خیال ہو، وہی لکھ دیجئے۔ برنارڈ شا نے لکھ دیا— سگریٹ نہ پیو، حتیٰ کہ عبداللہ سگریٹ بھی نہیں: Don't smoke, even Abdulla. کمپنی نے جارج برنارڈ شا کے نام سے یہی الفاظ چھاپ دئے اور اس کو خوب پھیلایا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں کو عبداللہ سگریٹ کے بارے میں تجسس ہوا۔ اس کے بعد عبداللہ سگریٹ کی زبردست شہرت ہوئی اور وہ بہت زیادہ بکنے لگا۔ اس دنیا میں ناموافق کو بھی اپنے موافق بنایا جا سکتا ہے، شرط صرف یہ ہے کہ آدمی ہوشیار اور موقع شناس ہو۔ اس قسم کی ہوشیاری کی ایک مثال "رازِ حیات" صفحہ ۸۳ پر دیکھی جا سکتی ہے۔ ۲۱ اگست ۱۹۸۹ سید لئیق احمد (پیدائش ۱۹۶۰) ملاقات کے لئے آئے۔ وہ نظام آباد (آندھرا پردیش) کے رہنے والے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۹۸۶ میں شبِ برات کے روز ہنومان کا جلوس نکلا۔ جلوس چلتا ہوا نہرو پارک کے قریب پہنچا تو عشاء کا وقت ہو چکا تھا۔ اس دن رات کو عشاء کی نماز کے بعد مسجد کچیان میں شبِ برات کا جلسہ ہونے والا تھا۔ اس کا وقت ساڑھے نو بجے مقرر تھا۔ مختلف محلوں کے مسلمان اپنے گھروں سے نکل کر روانہ ہوئے کہ مسجد کچیان میں نماز پڑھیں اور اس کے بعد جلسہ میں شرکت کریں۔ ان کا راستہ نہرو پارک سے گزرتا تھا۔ پولیس نے انھیں روکا اور کہا کہ آپ لوگ تھوڑی دیر ٹھہر جائیں۔ جلوس گزر جائے تو اس کے بعد مسجد کے لئے روانہ ہوں۔ مگر مسلمانوں نے اسی وقت آگے جانے کے لئے اصرار کیا۔ پولیس والوں نے ڈرانے کے لئے لاٹھی گھمائی اور دیواروں پر لاٹھی ماری۔ اس پر مسلمان مشتعل ہو گئے اور پتھراؤ اور چپل پولیس کی طرف پھینکے۔ اس کے بعد پولیس نے باقاعدہ لاٹھی چارج کیا۔ اور بہت سے لوگوں کو حوالات میں بند کر دیا۔ وہاں مسلمانوں کو کافی مارا گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader