آغازِ کلام
Urdu book, p. 148
By Maulana Wahiduddin Khan
میں نے کہا کہ یہ مسلمانوں کی سراسر نادانی تھی۔ اگر اس وقت وہ رک جاتے تو زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگتا۔ اتنی دیر میں جلوس گزر جاتا اور پھر وہ مسجد میں جاکر جلسہ میں شریک ہو جاتے۔ اسی قسم کی نادانیاں ہیں جس نے مسلمانوں کو غیر ضروری مسائل میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ۲۲ اگست ۱۹۸۹ قومی آواز (۴۱ اگست ۱۹۸۹) میں ایم شفیق انصاری ایڈوکیٹ (مراد آباد) کا مراسلہ چھپا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’یوپی میں نا فذ خاتمہ زمینداری ایکٹ ۱۹۵۰ کے ذریعہ اتر پردیش میں عورتوں کو چالیس سال سے زرعی زمین میں ان کے حقوق سے لگاتا محروم کیا جا رہا ہے۔ قانون کی مذکورہ دفعات ۱۷۱، اور ۱۷۲ کے مطابق اگر کوئی مرد یا خاتون کچھ زرعی جائداد چھوڑ کر فوت ہو جائے، اور اگر ان کے وارثین میں بیٹے بھی ہوں تو کل جائداد بطور تر کہ صرف بیٹوں اور یتیم پوتوں کو ملتی ہے۔ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ بیٹیوں کو کچھ نہیں ملتا۔‘‘ یہ قانون ہند و مسلمان دونوں پر نافذ ہے۔ یہ شریعت کے قانون وراثت میں کھلی ہوئی مداخلت ہے۔ مگر پچھلے ۴۰ سال کے اندر کسی بے رئیس یا باریش لیڈر نے اس کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی۔ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ اس کے مقابلہ میں بہت معمولی تھا۔ جب کہ مذکورہ قانون کا معاملہ اس سے بہت زیادہ سنگین ہے۔ اس معاملہ میں نام نہاد لیڈروں کی خاموشی کی وجہ صرف یہ ہے کہ شاہ بانو بیگم کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کی جا سکتی تھی۔ مگر مذکورہ قانون کے معاملہ میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع نہیں کی جاسکی۔ بہ حال ہے ان لیڈروں کا جو شاہ بانو بیگم کی تحریک کے وقت کہتے تھے کہ ہم شریعت کے معاملہ میں ادنیٰ مداخلت برداشت نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام لیڈر اور رہنما ملت کو بھٹکانے والے ہیں نہ کہ ملت کو راہ دکھانے والے۔ حیدر آباد سے محی الدین محمد اپنے خط میں لکھتے ہیں ’’ایک صاحب جو امریکہ میں مستقل طور پر سکونت پذیر ہیں، خوندار کے لیے یہاں آئے تھے۔ ان سے ملاقات میں انہوں نے اہم مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader