آغازِ کلام
Urdu book, p. 149
By Maulana Wahiduddin Khan
انہوں نے اپنا مذہبی تشخص برقرار نہیں رکھا۔ اس کے برعکس ہندوستان وغیرہ اقلیتی ملکوں کے جو مسلمان وہاں جا کر آباد ہوئے ہیں ان کی قابل لحاظ تعداد نے اپنے مذہبی تشخص کو برقرار رکھا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن ملکوں میں مسلم حکومتیں ہیں، وہاں کے مذہبی امور حکومت انجام دیتی ہے، عام مسلمانوں کو اس سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس اقلیتی ملکوں کے مسلمانوں کو اپنے ملکوں میں خود اپنی کوشش سے تمام ملی اور مذہبی کام کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ عرب ملکوں کے لوگ امریکہ گئے تو اپنے سابقہ ذہن کی بنا پر انھوں نے مذہبی اداروں کے قیام کی فکر نہیں کی۔ اس کے برعکس ہندوستان وغیرہ کے مسلمان جس طرح اپنے ملک میں یہ کام کر رہے تھے، اسی طرح وہ امریکہ میں بھی یہی کام کرنے لگے۔ اس طرح ان کا مذہبی تشخص نسبتاً محفوظ رہا۔ کچھ معاملوں میں اگر اکثریتی ملکوں کے مسلمان بہتر پوزیشن میں ہیں، تو کچھ دوسرے معاملہ میں اقلیتی ملکوں کے مسلمان بہتر پوزیشن میں ہیں۔ ۲۴ اگست ۱۹۸۹ ہندوستان ٹائیمس (۲۴ اگست ۱۹۸۹) میں ایک خبر ہے کہ دنیا کے سب سے زیادہ دولت مند لوگ : Richest men of the world. نیو یارک کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی یہ خبر امریکہ کے میگزین (Fortune) کے سالانہ جائزہ پر مبنی ہے۔ اس کے مطابق دنیا کے چار امیر ترین آدمی یہ ہیں : Sultan of Brunei 25 billion dollars King Fahd 18 billion dollars Mars family, USA 12.5 billion dollars Queen Elizabeth II, UK 10.9 billion dollars اس اندازہ کے مطابق، انفرادی دولت کے اعتبار سے اس وقت ساری دنیا میں مسلمان نمبر ایک پر ہیں۔ اسی طرح انھیں اور بھی کئی امتیازی خصوصیات حاصل ہیں۔ اقوام متحدہ کے ممبروں میں سب سے زیادہ تعداد مسلم ملکوں کی ہے۔ سب سے زیادہ رُومانی زمانے والا قرآن آپ کو ان سے سب سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader